آریانا افغان ایئرلائنز نے کابل اور نئی دہلی کے درمیان کارگو پروازوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جسے دفاعی ماہرین خطے میں مشتبہ نقل و حرکت اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

September 21, 2026

کنڑ میں فضائی حملے کے بعد ایک مقامی افغان خاتون کے بیان نے طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

September 21, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلح جتھوں کو اسلام آباد آنے نہیں دیا جائے گا، پُرامن احتجاج پی ٹی آئی کی روایت نہیں ہے۔

September 21, 2026

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

September 21, 2026

جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر، ممتاز عالم دین اور معروف مصنف حافظ محمد ادریس علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

September 21, 2026

جنگ ستمبر کے 21 ویں روز سیالکوٹ میں ٹینکوں کی بڑی لڑائی میں افواج پاکستان نے تاریخی اور فیصلہ کن فتح حاصل کی۔

September 21, 2026

طالبان کے سیکیورٹی اور معاشی دعوے مسترد، افغانستان میں غربت اور بیرونی انحصار میں ہوشربا اضافہ

سال 2025 کے دوران پاکستان کے اندر ہونے والے چھ سو سے زائد حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی گئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور سرحدی بندشوں سے افغان معیشت کو روزانہ دس لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے
افغانستان میں غربت

اعداد و شمار کے مطابق، دو کروڑ 69 لاکھ افراد یعنی 64.9 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے۔

May 3, 2026

اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق طالبان کی جانب سے افغانستان میں استحکام اور معاشی ترقی کے دعوے زمینی حقائق کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے طالبان کے اس دعوے کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے کہ افغان سرزمین سے کوئی بھی دہشت گرد گروہ کارروائی نہیں کر رہا۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں تحریک طالبان کے تقریباً چھ ہزار جنگجو موجود ہیں جنہیں طالبان کی مکمل پناہ اور سہولیات حاصل ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران پاکستان کے اندر ہونے والے چھ سو سے زائد حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی گئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور سرحدی بندشوں سے افغان معیشت کو روزانہ دس لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جس کی بھاری قیمت عام افغان خاندانوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب عالمی بینک کے جائزے کے مطابق، مالی سال 2025 میں افغانستان کی مجموعی ملکی پیداوار میں 4.3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، لیکن آبادی کی شرح نمو 8.6 فیصد تک پہنچنے سے فی کس آمدنی میں 4.0 فیصد کمی واقع ہوگی۔ اعداد و شمار کے مطابق، دو کروڑ 69 لاکھ افراد یعنی 64.9 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں 75 فیصد افراد اپنی بنیادی ضروریات کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت نے کوئی مستحکم اور خود کفیل معیشت نہیں بنائی، بلکہ ملکی محصولات کا 40 فیصد سے زائد حصہ بیرونی امداد پر منحصر ہے۔ اس مالیاتی انحصار کے باعث افغانستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 31.9 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے، جس سے عام آدمی کے لیے معاشی بقا مزید مشکل ہو گئی ہے۔

دیکھئیے:طالبان کی پالیسیوں کی تہری ناکامی؛ نظریاتی جبر، ٹی ٹی پی کی پشت پناہی اور معاشی استحکام کا فقدان، عوام کسمپرسی کا شکار

متعلقہ مضامین

آریانا افغان ایئرلائنز نے کابل اور نئی دہلی کے درمیان کارگو پروازوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جسے دفاعی ماہرین خطے میں مشتبہ نقل و حرکت اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

September 21, 2026

کنڑ میں فضائی حملے کے بعد ایک مقامی افغان خاتون کے بیان نے طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

September 21, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلح جتھوں کو اسلام آباد آنے نہیں دیا جائے گا، پُرامن احتجاج پی ٹی آئی کی روایت نہیں ہے۔

September 21, 2026

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

September 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *