اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے حکومتی جواز کے فقدان اور خواتین کے حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے معاشی اور اسٹریٹجک تباہی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، طالبان حکومت عوام کی حمایت یا ان کی رضامندی حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی۔ ہیبت اللہ اخوند زادہ قندھار میں تنہائی کی زندگی گزارتے ہوئے ایک مطلق العنان حکمران کے طور پر کام کر رہے ہیں اور وہ خالصتاً مذہبی بنیادوں پر احکامات جاری کرتے ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان قیادت اپنی پالیسیوں کے لیے عوامی تائید کی ضرورت کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ رجیم نے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق پر سوال اٹھانے والے اپنے ہی رہنماؤں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا، یا جلاوطن کر دیا ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالبان اپنی صفوں میں بھی کسی قسم کی اصلاح کی گنجائش کو برداشت نہیں کرتے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2024 میں صرف 7 فیصد افغان خواتین گھر سے باہر روزگار کما رہی ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 84 فیصد مرد برسرِ روزگار ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم و روزگار پر پابندیوں کے طویل مدتی معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ملک کی نصف آبادی کو معاشی سرگرمیوں سے باہر کر دیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک خواتین کے خلاف ان پابندیوں کو ختم نہیں کیا جاتا، تب تک پائیدار امن اور خوشحالی کا حصول ناممکن ہے۔
اس کے علاوہ، خواتین نرسوں، مڈوائفوں اور امدادی کارکنوں پر پابندیوں نے خواتین اور بچوں تک طبی اور امدادی سامان کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق طالبان نے پہلے نصف ملک کو معاشی اور تعلیمی دھارے سے نکالا اور پھر غربت کا ذمہ دار دنیا کو ٹھہرایا، جس کی وجہ سے افغانستان میں انسانی بحران خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
دیکھئیے:طالبان کے سیکیورٹی اور معاشی دعوے مسترد، افغانستان میں غربت اور بیرونی انحصار میں ہوشربا اضافہ