دی نیویارک ٹائمز کی تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ نے بین الاقوامی سیاست اور جنگی ضابطہ اخلاق پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صحافی ایلکس کین کی مرتب کردہ اس جامع تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران میں ایک تعلیمی ادارے پر کیا جانے والا تباہ کن حملہ، جس میں 175 افراد لقمہ اجل بنے دراصل امریکی عسکری کاروائی تھی۔ رپورٹ میں فراہم کردہ تفصیلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت معصوم بچوں اور اسکول کے عملے کی تھی، جس نے پوری دنیا میں انسانی ہمدردی کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
مہلک ترین حملہ قرار
نیویارک ٹائمز کی تحقیقات میں 28 فروری کو ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے دوران اب تک کا سب سے مہلک شہری سانحہ قرار دیا گیا ہے۔ اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پر موجود تصدیق شدہ ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر یہ ثابت کیا ہے کہ اسکول کی عمارت کو باقاعدہ منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
A New York Times investigation indicates that it was a US strike on an Iranian school that killed 175 people, mostly children. https://t.co/YoR5WY3bWn
— Alex Kane (@alexbkane) March 5, 2026
اس انکشاف کے بعد عالمی دفاعی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس کاروائی کے جواز اور اس کے مقاصد پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ‘ٹی آر ٹی ورلڈ’ کے مطابق یہ رپورٹ اس تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اس انکشاف نے واشنگٹن کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال اور کولٹرل ڈیمیج کے دعوؤں کے بارے میں عالمی رائے عامہ کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد یہ بحث بھی طول پکڑ رہی ہے کہ آیا بین الاقوامی قوانین کے تحت اسکولوں اور تعلیمی مراکز کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکامی یا جان بوجھ کر انہیں نشانہ بنانا کس حد تک جنگی قوانین کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس رپورٹ کے بعد امریکہ کو عالمی فورمز پر اپنے اس طرزِ عمل کی اخلاقی اور قانونی وضاحت دینی ہو گی، کیونکہ معصوم بچوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت کسی بھی صورت میں معمولی عسکری غلطی قرار نہیں دی جا سکتی۔
دیکھیے: امریکی آبدوز کا ایرانی جہاز پر حملہ، 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ