افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار میں وزارتِ خزانہ کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے احکامات کی اطاعت کو اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کے مانند قرار دیا ہے۔ یہ سیمینار انتیس اپریل کو منعقد ہوا، جس میں وزیرِ خزانہ، نائب وزراء، مرکزی دارالافتاء کے سربراہ اور گورنر قندھار بھی شریک تھے۔ اس تقریب میں ملا ہیبت اللہ نے حکومتی امور، احتساب اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے اہم احکامات جاری کیے۔
سیمینار کے دوران طالبان رہنما نے سورہ نساء کی آیت انسٹھ کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطاعت اسی طرح واجب ہے جیسے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت واجب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے احکامات کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کے برابر جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی نافرمانی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزی پر کی جانے والی کارروائی میں کسی کی بھی سفارش قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی کے منصب یا مرتبہ کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ کارروائی کے آغاز پر وہ بغیر کسی ثالثی کے ان کے اقدامات کی مکمل حمایت کریں۔
طالبان انتظامیہ میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ملا ہیبت اللہ نے حکم دیا کہ ہر مقرر ہونے والے اہلکار کو ابتدا میں اپنے تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔ عہدہ چھوڑنے کے وقت ان کا تفصیلی احتساب کیا جائے گا اور اگر اہلکار کی دولت ابتدائی اثاثوں سے زیادہ نکلی، تو اضافی دولت سرکاری خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔ انتظامی احکامات کے تحت یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پولیس کی اصطلاح کو سرکاری سطح پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کی جگہ خالص اسلامی اصطلاح شُرطہ استعمال کی جائے گی اور اس سلسلے میں بہت جلد نیا قانون بھی نافذ کر دیا جائے گا۔
ملا ہیبت اللہ نے اپنی تقریر کے دوران ماضی میں ہونے والی تمام نافرمانیوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا اور اللہ سے بخشش طلب کی۔ تاہم، انہوں نے کڑی تنبیہ کی کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔