وفاقی دارالحکومت کی تاریخ میں سب سے بڑی مالیاتی جعلسازی کی کہانی اب اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ پہلی آئینی شاہراہ پر واقع متنازعہ منصوبہ، جو طویل عرصے سے پاکستان کی بااثر اشرافیہ کے استحقاق کی علامت بنا ہوا تھا، اب ریاست کی کڑی گرفت میں آ چکا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے اس ریاستی اراضی کے استحصال کے خلاف شروع کیا جانے والا فیصلہ کن اقدام نہ صرف قانون کی بالادستی کا مظہر ہے، بلکہ یہ ان گروہوں کے منہ پر طمانچہ بھی ہے جو قومی وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھتے تھے۔
اس کہانی کا آغاز سن دو ہزار پانچ میں ہوا جب وفاقی دارالحکومت میں اعلیٰ معیاری مہمان خانے کی تعمیر کے لیے زمین پٹے پر دی گئی۔ اس زمین کی قیمت بہت کم رکھی گئی تھی تاکہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے تعمیر ممکن ہو سکے۔ لیکن حفیظ پاشا اور ان کے شراکت داروں نے مل کر قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی۔ ترقیاتی ادارے میں موجود ان کے ایک ساتھی نے ملی بھگت سے معاہدے میں غیر قانونی تبدیلی کر کے مہمان خانے کی جگہ دو سو تریسٹھ رہائشی مکانات بنانے کی منظوری دے دی۔
اس منصوبے کے لیے مالیاتی اداروں سے خطیر رقم کا قرضہ حاصل کیا گیا اور ان رہائشی مکانات کی فروخت سے بے پناہ دولت کمائی گئی جو قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی گئی۔ نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔
جب ریاستی اداروں نے عمارت کے پٹے کو منسوخ کرنے کے حتمی احکامات جاری کیے اور عدالتِ عالیہ نے بھی اداروں کے موقف کو درست قرار دیا، تو اس گروہ کے حامیوں نے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کا موقف واضح ہے کہ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ تمام ملوث افراد کے نام سامنے لائے جائیں اور ان غیر قانونی رہائشی مکانات کو سرکار کی تحویل میں لے کر قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔