برطانوی حکومت نے امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کے لیے نئے تعلیمی (اسٹڈی) ویزوں کا اجراء معطل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان شہریوں کے لیے ورک ویزا کی سہولت بھی تاحکمِ ثانی روک دی گئی ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ سخت فیصلہ طالب علم ویزوں کے ذریعے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے رجحان میں غیر معمولی اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے بعد برطانیہ پہنچنے والے تقریباً 95 فیصد افغان طلبہ نے وہاں پہنچتے ہی سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کر دیں، جو طالبان کے دورِ حکومت میں موجود انتظامی کمزوریوں اور عدم تحفظ کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی پناہ گزین درخواستوں میں سے 13 فیصد وہ افراد ہیں جو ابتدا میں طالب علم ویزے پر برطانیہ آئے۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کے لیے ویزوں کی یہ معطلی کابل کے موجودہ حکام کے ساتھ عالمی برادری کے بڑھتے ہوئے ‘اعتماد کے فقدان’ کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر افغانستان میں واقعی استحکام اور امن ہوتا تو افغان شہری اتنی بڑی تعداد میں پناہ کی تلاش میں بیرونِ ملک کا رخ نہ کرتے۔ مزید برآں یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ طالبان کی سرپرستی میں کام کرنے والے بعض شدت پسند نیٹ ورکس اب ہجرت کے ان راستوں اور دستاویزی جعل سازی کا سہارا لے کر دیگر ممالک میں منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانیہ کی جانب سے افغان شہریوں کی سخت جانچ پڑتال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر سلامتی کے خطرات اور افغانستان سے کام کرنے والے بین الاقوامی عسکریت پسند نیٹ ورکس کی نقل و حرکت پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تازہ ترین پابندی افغان حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کی جا رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان کے زیرِ اثر افغانستان کی عالمی تنہائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔