مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن صرف ایک عالمی روایت نہیں بلکہ انسانیت کے اس بنیادی کردار کو سلام پیش کرنے کا دن ہے جس کے بغیر معاشرہ، تہذیب اور زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اس کے باوجود یہ اعتراف ضروری ہے کہ خواتین کو درپیش چیلنجز مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ تعلیم تک رسائی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ جیسے مسائل اب بھی بہت سی خواتین کے راستے میں موجود ہیں

March 8, 2026

آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن صرف ایک عالمی روایت نہیں بلکہ انسانیت کے اس بنیادی کردار کو سلام پیش کرنے کا دن ہے جس کے بغیر معاشرہ، تہذیب اور زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ عورت صرف ایک رشتہ نہیں، وہ زندگی کی بنیاد ہے۔عورت ایک ایسا ستون ہے جس کے سہارے گھر، خاندان بلکہ پورا معاشرہ سر اٹھائے کھڑا ہے۔ وہ ماں ہے تو نسلوں کی معلم ہے، وہ بیٹی ہے تو گھر کی روشنی ہے، وہ بیوی ہے تو دکھ سکھ کی رازدار اور وہ ایک باشعور شہری ہے تو معاشرے کی تعمیر میں خاموش مگر مضبوط ستون

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں۔

اسلام ایک واحد مذہب ہے جس نے عورت کو غیر معمولی عزت اور وقار عطا کیا۔ قرآن نے مرد اور عورت دونوں کو ایک ہی نفس سے پیدا ہونے والا قرار دیا جبکہ نبی کریم ﷺ نے ماں کے قدموں تلے جنت اور بیٹی کو اللہ کی رحمت قرار دے کر عورت کے مقام کو انسانیت کی بلند ترین منزلوں میں شمار کیا۔ اسلام عورت کو پھول سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو بتاتی ہیں کہ ایک عورت صرف خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

پاکستان کی لاکھوں خواتین اپنی محنت سے معیشت کو بھی سہارا دے رہی ہیں۔ گھروں میں سلائی کڑھائی کرنے سے لے کر کھیتوں میں ہل چلانے تک، تعلیم سے لے کر کاروباری میدانوں میں جھنڈے گاڑنے تک خواتین ثابت کرتی آئی ہیں کہ عورت کی صلاحیت صرف ایک خاص دائرے تک محدود نہیں ہے۔

اس کے باوجود یہ اعتراف ضروری ہے کہ خواتین کو درپیش چیلنجز مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ تعلیم تک رسائی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ جیسے مسائل اب بھی بہت سی خواتین کے راستے میں موجود ہیں۔ ایک مہذب معاشرے کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ عورت کو خراجِ تحسین پیش کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے وہ مواقع فراہم کرے جن کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکے۔

ایک تعلیم یافتہ اور بااختیار عورت صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل روشن کی ضمانت دیتی ہے۔ نپولین بونا پاٹ نے برسوں پہلے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

“مجھے ایک پڑھی لکھی عورت دو، میں وعدہ کرتا ہوں میں تمہیں ایک مہذب اور تعلیم یافتہ قوم دوں گا !”

ادب نے عورت کو صنفِ نازک کا نام دیا، مگر تاریخ گواہ ہے کہ اسی نازک وجود نے گھروں کو سنبھالا، تہذیبوں کو پروان چڑھایا اور معاشروں کی بنیادوں کو مضبوط رکھا۔ بظاہر نرم دکھائی دینے والی یہ ہستی دراصل صبر، استقامت اور قوتِ برداشت کی وہ مثال ہے جسے اگر صنفِ آہن کہا جائے تو کچھ زیادہ غلط نہ ہو گا۔

دیکھئیے:خواتین کے عالمی دن سے قبل کابل میں افغان خواتین کے طالبان مخالف مظاہرے، وال چاکنگ بھی کی گئی

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *