یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔

March 10, 2026

چین نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکہ نے ‘یرغمالی سفارت کاری’ پر افغانستان کو ناجائز حراست کا ذمہ دار ملک نامزد کر دیا ہے

March 10, 2026

امریکی خصوصی مندوب ایڈم بوہلر نے طالبان کو تین امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے آخری وارننگ دیتے ہوئے افغانستان کو ایران اور وینزویلا جیسی سخت پابندیوں کی دھمکی دے دی ہے

March 10, 2026

حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔

March 10, 2026

امریکی حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا

March 10, 2026

افغانستان کی اسلامی جمہوریہ کے 20 سالہ دور میں طالبان افغان سیکیورٹی فورسز سے لڑ کر کسی ایک صوبے یا بڑے شہر پر بھی قبضہ نہیں کر سکے تھے

March 9, 2026

انتشار کی سیاست اور خارجی ذہنیت

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔
انتشار کی سیاست اور خارجی ذہنیت

ریاستیں نعرے بازی سے نہیں بلکہ استحکام، قانون کی حکمرانی اور اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان ایک محفوظ، متوازن اور مستحکم معاشرہ بن سکتا ہے لیکن ہنوز دلی دور است۔۔۔!!

March 10, 2026

تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ ریاستیں اکثر بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی انتشار سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ یہ انتشار ہمیشہ کسی نہ کسی بلند فکر نعرے کے ساتھ آتا ہے۔ کبھی اسے مذہب کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، کبھی انقلاب کے نام پر، اور کبھی عوامی حقوق کے نام پر۔ مگر جب اس کی تہہ میں جھانکا جائے تو اکثر وہاں ایک ایسی ذہنیت کارفرما نظر آتی ہے جو ریاستی نظم کو توڑنے اور معاشرے کو تقسیم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

اسلامی تاریخ میں اس ذہنیت کو خوارج کا نام دیا گیا تھا.یہ وہ لوگ تھے جو بظاہر بڑے عبادت گزار تھے۔ قرآن پڑھتے تھے، نمازوں میں طویل قیام کرتے تھے اور ظاہری تقویٰ میں بھی ممتاز دکھائی دیتے تھے۔ لیکن ان کی فکر میں شدت، تکفیر اور بغاوت کا عنصر موجود تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے امت کے اندر ایسی آگ بھڑکائی جس کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے گئے۔

آج کے زمانے میں اسی خارجی ذہنیت نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ اب یہ صرف مذہبی گروہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض سیاسی تحریکوں، مسلح گروہوں اور پراکسی نیٹ ورکس کی صورت میں بھی سامنے آتی ہے۔ ان کا بنیادی مقصد اصلاح نہیں بلکہ انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔

مسلم ممالک میں منتخب حکومتوں کے خلاف لوگوں کو کھڑا کرنا، ریاستی اداروں کو کمزور کرنا اور معاشرے کو مسلسل اضطراب میں رکھنا دراصل اسی ذہنیت کی جدید صورت ہے۔ ان قوتوں کی حکمت عملی بہت سادہ ہوتی ہے۔ وہ عوام کے جذبات کو بھڑکاتی ہیں، مذہبی یا سیاسی نعروں کے ذریعے نوجوانوں کو سڑکوں پر لاتی ہیں اور پھر ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں ریاستی نظم کو چیلنج کیا جا سکے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں، وہ اسی خطرناک رجحان کی واضح مثال ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ پابندیوں اور قانونی احکامات کے باوجود احتجاج کی کالیں دی گئیں۔ بعض گروہوں نے کھلے عام لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ترغیب دی۔

اس کے نتیجے میں وہی کچھ ہوا جو ہر ایسے موقع پر ہوتا ہے۔ سڑکیں بند ہو گئیں، پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہو گئی، کاروبار زندگی ٹھپ ہو گیا اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ روزانہ کی مزدوری کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، طالب علم اور مریض سب اس افراتفری کا براہ راست نشانہ بنے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر عوامی اور حکومتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ گاڑیوں کو جلایا گیا، سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے اور ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جو کسی مہذب معاشرے کے لیے باعث شرم ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج ہے یا منظم فساد؟

یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ جب ریاست ایسے حالات میں قانون نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو فوراً ایک شور برپا کر دیا جاتا ہے۔ گرفتاریوں کو ظلم قرار دیا جاتا ہے، قانون کے نفاذ کو جبر کہا جاتا ہے اور پورے معاملے کو ایک نئی جذباتی کہانی میں تبدیل کر دیا جاتا ہےاور ذرائع ابلاغ کا ایک مخصوص حصہ اس انتشار کا حلیف بن جاتا ہے .

لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔ریاست کا بنیادی فرض صرف ردعمل دینا نہیں بلکہ پیشگی حکمت عملی کے ذریعے امن قائم رکھنا بھی ہے۔ اگر مسلسل وہی گروہ بار بار سڑکیں بند کر رہے ہیں، عوامی زندگی مفلوج کر رہے ہیں اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں تو یہ سوال فطری ہے کہ ان کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات حکومتیں سیاسی مصلحتوں، وقتی مفادات یا کمزور حکمرانی کے باعث ایسے عناصر کے ساتھ نرمی برتتی ہیں۔ یہی نرمی بعد میں ریاست کے لیے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ جب قانون کا نفاذ غیر مستقل اور غیر مساوی ہو تو معاشرے میں یہ پیغام جاتا ہے کہ طاقت اور شور شرابہ ہی اصل زبان ہے۔

خارجی ذہنیت کو پہچاننے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ جب بھی آپ کسی سیاسی یا مذہبی گروہ، ادارے یا افراد کی گفتگو میں مسلسل نفرت، اشتعال، توڑ پھوڑ اور تشدد کی ترغیب دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ مسئلہ صرف اختلاف رائے کا نہیں بلکہ ایک خطرناک خارجی ذہنیت کا ہے۔یہ لوگ بظاہر بڑے دیندار اور مخلص دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی تقاریر میں جذبات ہوتے ہیں، ان کی تحریروں میں بڑے بڑے دعوے ہوتے ہیں اور ان کے ظاہری انداز میں مذہبی یا اخلاقی رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ مگر تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظاہری تقویٰ ہمیشہ درست فکر کی ضمانت یا پیمانہ نہیں ہوتا۔

خوارج کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ ان کی عبادت دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی حیران رہ جاتے تھے، مگر ان کی فکر میں شدت اور تکفیر تھی۔ اسی شدت نے انہیں اس مقام تک پہنچا دیا جہاں وہ اپنے ہی معاشرے کے سرکردہ افراد اور ذمہ دار افراد کے خلاف تلوار اٹھانے لگے۔آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو اسی ذہنیت کی جھلک مختلف صورتوں میں نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ مذہب کے نام پر، کچھ سیاست کے نام پر ، کچھ حقوق کے نام پر اور کچھ انقلاب کے نام پر معاشرے کو ایک ایسی انتہا کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جہاں مکالمہ، اعتدال اور ریاستی نظم کی کوئی جگہ باقی نہ رہے۔

پاکستان جیسے پیچیدہ معاشرے میں اس طرز فکر کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ملک پہلے ہی کئی داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر معاشرے کے اندر مسلسل اشتعال، تشدد اور بغاوت کی فضا پیدا کی جائے تو اس کا فائدہ صرف ان قوتوں کو ہوگا جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔

اسی لیے حکومت اور ریاستی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض وقتی ردعمل تک محدود نہ رہیں بلکہ ایک واضح اور مضبوط حکمت عملی کے ذریعے ایسے عناصر کا راستہ روکیں۔ ریاست کی طاقت صرف طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ قانون کی یکساں اور بروقت عملداری میں ہوتی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر جذباتی نعرہ سچ نہیں ہوتا اور ہر پرجوش تقریر حقیقت کا راستہ نہیں دکھاتی۔ بعض اوقات سب سے زیادہ خطرناک آواز وہ ہوتی ہے جو سب سے زیادہ مقدس زبان استعمال کر رہی ہوتی ہے۔ ہمیں ایسے حالات میں دیکھنا ہوگا کہ اس گفتگو اور تحریک کا نتیجہ معاشرے میں بہتری ہے یا فساد اور انتشار

پاکستان کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس خارجی ذہنیت کو پہچانیں، نفرت اور تشدد کی سیاست کو مسترد کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں اختلاف ہو مگر انتشار نہ ہو، تنقید ہو مگر بغاوت نہ ہو، اور جذبات کا اظہار عقل اور ذمہ داری کے ساتھ ہو .

ریاستیں نعرے بازی سے نہیں بلکہ استحکام، قانون کی حکمرانی اور اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان ایک محفوظ، متوازن اور مستحکم معاشرہ بن سکتا ہے لیکن ہنوز دلی دور است۔۔۔!!

متعلقہ مضامین

چین نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکہ نے ‘یرغمالی سفارت کاری’ پر افغانستان کو ناجائز حراست کا ذمہ دار ملک نامزد کر دیا ہے

March 10, 2026

امریکی خصوصی مندوب ایڈم بوہلر نے طالبان کو تین امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے آخری وارننگ دیتے ہوئے افغانستان کو ایران اور وینزویلا جیسی سخت پابندیوں کی دھمکی دے دی ہے

March 10, 2026

حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔

March 10, 2026

امریکی حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *