طالبان مخالف مسلح مزاحمت کا دائرہ کار تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور حالیہ ہفتوں میں ملک کے مختلف حصوں میں طالبان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تازہ ترین واقعے میں بدخشاں کے علاقے میں سرگرم طالبان مخالف مسلح گروہ سپاہیانِ میہن نے یفتل ضلع کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروہ کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں انہیں مقامی دفتر پر اپنا پرچم لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سپاہیانِ میہن کا کہنا ہے کہ اس کامیاب آپریشن کے دوران طالبان کا اہم فوجی سامان بھی ان کے قبضے میں آ گیا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں طالبان کو شدید دفاعی چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
مسلح مزاحمت میں اس مسلسل اضافے کے بعد طالبان نے اپنی صفوں کو مضبوط بنانے کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے عسکری استعداد بڑھانے اور سکیورٹی خلا کو پر کرنے کے لیے نئے جنگجوؤں کی بھرتیوں کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔
دوسری جانب، صورتِ حال کے انتہائی کشیدہ ہونے پر طالبان کے ایک سینئر وزیر کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے مزاحمت کاروں کے خلاف جواب کے طور پر خودکش بمبار بھیجنے کی کھلی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں مزید خونریزی اور بڑے پیمانے پر تناؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دیکھیے: طالبان کا سخت گیر کریک ڈاؤن جاری، ہرات سے مزید 4 خواتین حراست میں