پاکستان مخالف بیانیے اور نسلی تقسیم کی کوششوں کے پیچھے بیرونی فنڈنگ اور پراکسی نظام کا حقیقت پسندانہ جائزہ سامنے آ گیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ریاستی اداروں پر جبر کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پاکستان کے سیاسی، عسکری اور معاشی شعبوں میں پشتون برادری کا کردار انتہائی اہم ہے۔ بیرونِ ملک مظاہروں کے ذریعے نسلی بنیادوں پر مصنوعی خلیج پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
دستاویزی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سرگرمیاں کسی خود ساختہ تحریک کے بجائے منظم تشہیری مہم ہیں۔ ان میں برطانیہ سے منتظمین کو 11 ہزار پاؤنڈ کی منتقلی، محسن داوڑ و علی وزیر کی جی ڈی آئی شخصیات سے ملاقاتیں، اور عینہ درخانی کی بھارتی و اسرائیلی شخصیات کے ساتھ تقریبات شامل ہیں۔
طالبان ترجمان خالد زدران کی خود نوشت کے دعوے اور 2025 کے جنیوا اجلاس کا مبینہ بھارتی خط یہ واضح کرتے ہیں کہ پی ٹی ایم اور بی وائی سی جیسے گروہ بیرونی مفادات کی نرم پراکسی ہیں۔ خط میں ان گروہوں سے رابطے خفیہ رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یورپی شہروں میں تجارتی مقامات کرائے پر لے کر علمی سرگرمیوں کا تاثر دینے کی کوششیں قانونی جائزوں کی زد میں آئی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سمیت متعدد عالمی اداروں نے سیکیورٹی خدشات اور نسلی نفرت پھیلانے کا سبب بننے پر پی ٹی ایم کی تقریبات منسوخ کی ہیں۔
ریاستی اداروں پر تنقید کرنے والے یہ عناصر دہشت گردی اور افغان سرزمین پر موجود کالعدم تنظیموں کے ٹھکانوں پر خاموش ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہزاروں پاکستانیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے شدت پسندوں کو سیاسی تحفظ دیتا ہے۔
بیرونِ ملک مقیم رہنما مقاصد کے لیے مقامی نوجوانوں کو متحرک کرتے ہیں مگر خود آئینی راستوں سے دور رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حقیقی قیادت وہی ہے جو عوام کے درمیان رہ کر مسائل حل کرے، نہ کہ مشکلات کو بیرونی مفادات کے لیے استعمال کرے۔
دیکھیے: بی ایل اے نے قائد اعظم یونیورسٹی کی ایم فل طالبہ کو اغوا کر لیا