طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

March 10, 2026

سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث؛ مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان دور میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا

March 10, 2026

پنجشیر کے علاقے ٹانخو میں طالبان فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں، جسمانی تشدد اور مقامی بزرگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی قیادت کو ختم کیا جا سکے

March 10, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں کہا کہ افغانستان اب دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں سے ٹی ٹی پی اور داعش سمیت 20 سے زائد گروہ پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں

March 10, 2026

امریکہ نے طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کو “ناجائز حراستوں کا سرپرست ملک” قرار دے دیا؛ طالبان سیاسی فوائد کے لیے غیر ملکیوں کو یرغمال بنا رہے ہیں

March 10, 2026

امریکی رپورٹ مسترد؛ پاکستان نے ‘خصوصی تشویش’ کی نامزدگی کو سیاسی و غیر متوازن قرار دے دیا

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے
پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں 'خصوصی تشویش والے ممالک' کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

پاکستان نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی کمیشن کی رپورٹ کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے 2026 کے لیے ملک کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ (سی پی سی) کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد نے اس رپورٹ کو یکطرفہ غیر متوازن اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام حقائق کے منافی اور امتیازی ہے۔

حکومتی اصلاحات

وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حال ہی میں کی گئی اہم قانون سازی اور انتظامی اقدامات کو نظر انداز کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق ‘نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق ایکٹ 2025’ کا نفاذ، پنجاب میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال کرنے کا قانون اور توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کی گئی سخت تحقیقاتی اصلاحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔

دوہرے معیار پر سوالات

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے لیے ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ، پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں اور تعلیمی اسکالرشپس کا نظام کامیابی سے جاری ہے۔ تاہم اس پیش رفت کے باوجود صرف پاکستان کو ہدف بنانا اور امریکی ‘اتحادی ممالک’ میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر خاموشی اختیار کرنا رپورٹ کی ساکھ کو شدید مشکوک بناتا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کا آئین تمام شہریوں کو بلا امتیاز مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔

حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی سیاسی دباؤ کے بجائے اپنے قوانین اور آئینی پاسداری کے ذریعے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ یہ رپورٹ مبینہ طور پر حقائق کے بجائے مخصوص سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔

متعلقہ مضامین

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

March 10, 2026

سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث؛ مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان دور میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا

March 10, 2026

پنجشیر کے علاقے ٹانخو میں طالبان فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں، جسمانی تشدد اور مقامی بزرگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی قیادت کو ختم کیا جا سکے

March 10, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں کہا کہ افغانستان اب دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں سے ٹی ٹی پی اور داعش سمیت 20 سے زائد گروہ پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *