امریکہ نے طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کو باضابطہ طور پر “ناجائز حراستوں کا سرپرست ملک” نامزد کر دیا ہے۔ مذکورہ فیصلہ طالبان کی جانب سے سیاسی مراعات کے حصول کے لیے غیر ملکی شہریوں کو بلاجواز قید کرنے اور انہیں سودے بازی کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
دہشت گردانہ ہتھکنڈے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز اپنے بیان میں طالبان کے اس طرزِ عمل کو “دہشت گردانہ ہتھکنڈے” قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اغواء اور غیر قانونی حراست کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ کے مطابق طالبان کا یہ رویہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے ایک الگ تھلگ شدت پسند گروہ کی عکاسی کرتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
🚨 U.S. DESIGNATES TALIBAN-CONTROLLED AFGHANISTAN A “WRONGFUL DETENTION COUNTRY”
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) March 10, 2026
The United States Department of State has officially designated Afghanistan under Taliban control as a “wrongful detention country,” citing the detention of American citizens by Taliban authorities.… pic.twitter.com/t1h1cCLAEX
مغوی امریکیوں کی بازیابی کا مطالبہ
واشنگٹن کے مطابق اس وقت کم از کم تین امریکی شہری طالبان کی قید میں ہیں، جن میں 64 سالہ ڈینس کوائل اور افغان سول ایوی ایشن کے سابق سربراہ محمود حبیبی شامل ہیں۔ ڈینس کوائل کو مبینہ طور پر بغیر کسی باضابطہ فردِ جرم کے طالبان کی خفیہ ایجنسی نے قید کر رکھا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے طالبان کو ان شہریوں کی فوری رہائی کا سخت انتباہ جاری کیا ہے اور امریکی شہریوں کے لیے افغانستان کے سفر کو انتہائی غیر محفوظ قرار دیا ہے۔
جدید ریاست کاری سے فرار اور عالمی تنہائی
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے یہ نامزدگی طالبان کی اس فرسودہ ذہنیت کو بے نقاب کرتی ہے جو اداروں کے قیام کے بجائے خوف اور جبر پر انحصار کرتی ہے۔ قانون کے تقاضوں سے انکار اور خفیہ حراستوں نے افغانستان کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ طالبان قیادت ایک ایسے نظریاتی حصار میں قید ہے جو جدید ریاست کاری اور عالمی سفارتی معیارات سے کوسوں دور ہے۔
نتائج اور عالمی ردِعمل
طالبان کی جانب سے حراستی سیاست اور سودے بازی کے ان ہتھکنڈوں نے انسانی اور سفارتی روابط کی رہی سہی گنجائش بھی ختم کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان اپنی اس جابرانہ پالیسی کو ترک کر کے بین الاقوامی قانون کے مطابق رویہ اختیار نہیں کرتے، تب تک ان کی جانب سے عالمی تسلیم شدگی کے مطالبات بے معنی رہیں گے۔