جرگہ کے واپس آنے کے بعد طورخم بارڈر پر ایک بار پھر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہو گئی جبکہ لاش تاحال سرحدی مقام پر موجود ہے

March 12, 2026

حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی کے مطابق زائرین کی تعداد کو مانیٹر کرنے کیلئے جدید سینسر ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جس سے ہجوم کے بہاؤ کو منظم کرنے اور انتظامی امور کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے

March 12, 2026

پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ؛ اسرائیلی کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کی بندش اور عبادت گزاروں پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت اور اسرائیل کے محاسبے کا مطالبہ

March 12, 2026

پاکستان کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف؛ ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی امن و انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار

March 12, 2026

پنجاب اور تاشقند ‘برادر صوبے’ قرار؛ نواز شریف اور مریم نواز سے ازبک وفد کی ملاقات، زراعت، صنعت اور سیاحت میں تعاون کے بڑے معاہدوں پر اتفاق

March 12, 2026

ڈی آئی خان کے علاقے تختی خیل میں پولیس، سی ٹی ڈی اور امن کمیٹی کا مشترکہ آپریشن؛ 2 دہشتگرد ہلاک، 4 گرفتار، 2 موٹر سائیکلیں برآمد

March 12, 2026

طورخم بارڈر پر لاش کی حوالگی کا معاملہ، کشیدگی برقرار

جرگہ کے واپس آنے کے بعد طورخم بارڈر پر ایک بار پھر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہو گئی جبکہ لاش تاحال سرحدی مقام پر موجود ہے
طور خم بارڈر پر لاش کی حوالگی کا معاملہ

ذرائع کے مطابق زیرو پوائنٹ پر پڑی لاش کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی جو مبینہ طور پر ایک مزدور تھا اور ذہنی طور پر کمزور بتایا جاتا ہے۔

March 12, 2026

خیبر کے علاقے طورخم بارڈر پر پاک افغان کشیدگی کے دوران سرحد کے قریب پڑی لاش کو اٹھانے کیلئے دونوں ممالک کے قومی مشران پر مشتمل جرگہ وفد سرحدی مقام پر پہنچا۔

ذرائع کے مطابق وفد لاش کو تحویل میں لے کر اس کی شناخت کرنا چاہتا تھا تاکہ جس ملک کے شہری کی لاش ہو اسے متعلقہ حکام کے حوالے کیا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق طورخم بارڈر پر شام 5 بجکر 30 منٹ تک سیز فائر کیا گیا تاکہ جرگہ مشران معاملے پر بات چیت کر سکیں۔

پاکستان کی جانب سے جرگہ وفد میں مفتی محمد اعجاز شینواری، ملک تاج الدین شینواری، چیئرمین شاہ خالد، مراد حسین، سعید خان، قاری نظیم گل، مولانا عاقب اور قاری جہاد شاہ سمیت دیگر عمائدین شامل تھے۔

افغانستان کی جانب سے ملک حاجی مستیار شینواری، ملک مولا خان شینواری، رئیس گل مجید شینواری، ملک والی خان شینواری، ملک گل رحمان شینواری، قاری بصیر شینواری، انجینئر متبر خان شینواری، مفتی اسداللہ شینواری، ملک دریا خان مومند، ملک شازر مومند اور ملک ہلمند مومند پر مشتمل وفد شریک ہوا۔

ذرائع کے مطابق زیرو پوائنٹ پر پڑی لاش کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی جو مبینہ طور پر ایک مزدور تھا اور ذہنی طور پر کمزور بتایا جاتا ہے۔

لنڈی کوتل کے جرگہ ارکان کے مطابق افغان وفد نے کہا کہ انہیں لاش اٹھانے کے لیے طالبان حکام سے اجازت لینا ہوگی، جس کے بعد پاکستانی جرگہ واپس لوٹ آیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق جرگہ کے واپس آنے کے بعد طورخم بارڈر پر ایک بار پھر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہو گئی جبکہ لاش تاحال سرحدی مقام پر موجود ہے۔

دیکھئیے:ڈی آئی خان میں سکیورٹی اداروں کا مشترکہ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک، 4 گرفتار

متعلقہ مضامین

حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی کے مطابق زائرین کی تعداد کو مانیٹر کرنے کیلئے جدید سینسر ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جس سے ہجوم کے بہاؤ کو منظم کرنے اور انتظامی امور کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے

March 12, 2026

پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ؛ اسرائیلی کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کی بندش اور عبادت گزاروں پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت اور اسرائیل کے محاسبے کا مطالبہ

March 12, 2026

پاکستان کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف؛ ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی امن و انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار

March 12, 2026

پنجاب اور تاشقند ‘برادر صوبے’ قرار؛ نواز شریف اور مریم نواز سے ازبک وفد کی ملاقات، زراعت، صنعت اور سیاحت میں تعاون کے بڑے معاہدوں پر اتفاق

March 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *