افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ فضائی کاروائیوں کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسے محض “بلا امتیاز جارحیت” قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ افغان ترجمان کا بیانیہ رمضان کے تقدس اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے جیسے جذباتیت پر مبنی نکات پر تو توجہ مرکوز کرتا ہے، تاہم اس بنیادی محرک کو مکمل طور پر چھپاتا ہے جو پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کشیدگی اور پاکستان کی جوابی کارروائیوں کا اصل سبب ہے۔
سرحد پار عسکریت پسندی
سیکیورٹی ماہرین اور بین الاقوامی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق، جن افغان صوبوں (ننگرہار، پکتیکا، خوست اور پکتیا) میں کارروائیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ براہِ راست پاکستان سے متصل ہیں اور طویل عرصے سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ 2021 کے بعد سے پاکستان میں ہونے والے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جن میں سے اکثر کے تانے بانے افغان سرزمین سے جا ملتے ہیں۔ صرف 2024 کی پہلی ششماہی میں 800 سے زائد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
د تیرو تجاوزونو او جنایاتو په دوام یوځل بیا پاکستاني پوځي رژیم په کابل، کندهار، پکتیا، پکتیکااو ځینو نورو برخو کې بمبارد وکړ، په ځینو ځایونو کې یې ملکي کورونه ویشتي چې ښځې او ماشومان یې شهیدان کړل او په ځينو ځایونو کې یې تشې دښتې او خالي ځایونه په نښه کړې دي.
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) March 13, 2026
۲/۱
دہشت گردوں کی موجودگی اور رپورٹس
روسی اور دیگر بین الاقوامی سکیورٹی جائزوں کے مطابق اس وقت افغانستان میں 20,000 سے 23,000 کے درمیان عسکریت پسند موجود ہیں۔ ان میں سے 5,000 سے 7,000 جنگجو صرف ٹی ٹی پی سے وابستہ ہیں، جو مشرقی اور جنوب مشرقی سرحد کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ٹی ٹی پی قیادت بشمول نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر نیٹ ورک کھلے عام اپنی دہشت گردانہ مہم کو “امارت اسلامیہ افغانستان کے تحفظ” سے جوڑتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان گروہوں کو افغان حکام کی جانب سے کسی نہ کسی شکل میں آپریشنل گنجائش میسر ہے۔
دفاعی ردعمل اور عسکری حربے
جب عسکریت پسند گروہ سرحدی صوبوں کو اپنا ٹھکانہ بنا کر پاکستان پر حملے کرتے ہیں، تو یہ علاقے ازخود انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا ہدف بن جاتے ہیں۔ عسکریت پسندوں کا ایک پرانا حربہ ہے کہ وہ اپنے لاجسٹک اثاثے، ہتھیاروں کے ڈپو اور جنگجوؤں کو شہری تنصیبات کے قریب چھپاتے ہیں تاکہ جوابی کارروائی کے بعد ہدف بننے کو پیچیدہ بنایا جا سکے اور اسے “شہریوں پر حملہ” قرار دے کر عالمی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔
بنیادی مسئلہ اور حل
سکیورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سرحد پر موجود کشیدگی کا واحد حل یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود پاکستان مخالف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ جب تک یہ گروہ افغانستان کے اندر آپریشنل سہولت اور محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں، سرحد پر امن کا قیام ایک چیلنج رہے گا۔ پاکستان نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال بند کیا جائے، بصورت دیگر سرحد پر سیکیورٹی کشیدگی کا تسلسل ناگزیر ہے۔