تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی ایک بڑی لاجسٹک ٹرین فوجی ساز و سامان اور بھاری گولہ بارود لے کر ریاست گجرات کی بین الاقوامی سرحد کی جانب روانہ کر دی گئی ہے

April 30, 2026

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ “معرکہء حق” محض ایک فوجی مرحلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی کاوش تھی جس میں وزیراعظم کی قیادت میں حکومتی عزم اور عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ مہارت ایک ہی صفحے پر نظر آئی۔

April 29, 2026

میں جب ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، یہ تعلیمی بورڈ سالانہ تقریباً پچاس ارب روپے پاکستان سے باہر منتقل کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ پرچے کی حفاظت یقینی بنانے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔

April 29, 2026

شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی جانوں کے تئیں طالبان کی بے حسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے معصوموں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی روش کو ظاہر کرتا ہے۔

April 29, 2026

ہلاک ہونے والے جنگجو کی شناخت قسمت اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع ڈنڈ پٹن میں طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ مولوی نعمت اللہ کا بھائی تھا۔

April 29, 2026

اگر علاقائی ممالک بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کریں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور تجارت کو سیاسی کشیدگی سے بالاتر رکھیں تو یہ خطہ ایک مضبوط معاشی بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ مواقع ضائع بھی ہو سکتے ہیں۔

April 29, 2026

افغان ترجمان کا یکطرفہ بیانیہ: زمینی حقائق اور سرحد پار عسکریت پسندی پر پردہ ڈالنے کی کوشش

افغان ترجمان کا حالیہ بیان زمینی حقائق کے برعکس ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجو پاکستان کے خلاف مسلسل حملوں میں ملوث ہیں
افغان ترجمان کا حالیہ بیان زمینی حقائق کے برعکس ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجو پاکستان کے خلاف مسلسل حملوں میں ملوث ہیں

ذبیح اللہ مجاہد کے الزامات اور حقائق؛ پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے اصل اسباب، ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین پر موجودگی اور پاکستان کا سکیورٹی ردعمل

March 13, 2026

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ فضائی کاروائیوں کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسے محض “بلا امتیاز جارحیت” قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ افغان ترجمان کا بیانیہ رمضان کے تقدس اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے جیسے جذباتیت پر مبنی نکات پر تو توجہ مرکوز کرتا ہے، تاہم اس بنیادی محرک کو مکمل طور پر چھپاتا ہے جو پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کشیدگی اور پاکستان کی جوابی کارروائیوں کا اصل سبب ہے۔

سرحد پار عسکریت پسندی

سیکیورٹی ماہرین اور بین الاقوامی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق، جن افغان صوبوں (ننگرہار، پکتیکا، خوست اور پکتیا) میں کارروائیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ براہِ راست پاکستان سے متصل ہیں اور طویل عرصے سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ 2021 کے بعد سے پاکستان میں ہونے والے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جن میں سے اکثر کے تانے بانے افغان سرزمین سے جا ملتے ہیں۔ صرف 2024 کی پہلی ششماہی میں 800 سے زائد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

دہشت گردوں کی موجودگی اور رپورٹس

روسی اور دیگر بین الاقوامی سکیورٹی جائزوں کے مطابق اس وقت افغانستان میں 20,000 سے 23,000 کے درمیان عسکریت پسند موجود ہیں۔ ان میں سے 5,000 سے 7,000 جنگجو صرف ٹی ٹی پی سے وابستہ ہیں، جو مشرقی اور جنوب مشرقی سرحد کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ٹی ٹی پی قیادت بشمول نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر نیٹ ورک کھلے عام اپنی دہشت گردانہ مہم کو “امارت اسلامیہ افغانستان کے تحفظ” سے جوڑتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان گروہوں کو افغان حکام کی جانب سے کسی نہ کسی شکل میں آپریشنل گنجائش میسر ہے۔

دفاعی ردعمل اور عسکری حربے

جب عسکریت پسند گروہ سرحدی صوبوں کو اپنا ٹھکانہ بنا کر پاکستان پر حملے کرتے ہیں، تو یہ علاقے ازخود انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا ہدف بن جاتے ہیں۔ عسکریت پسندوں کا ایک پرانا حربہ ہے کہ وہ اپنے لاجسٹک اثاثے، ہتھیاروں کے ڈپو اور جنگجوؤں کو شہری تنصیبات کے قریب چھپاتے ہیں تاکہ جوابی کارروائی کے بعد ہدف بننے کو پیچیدہ بنایا جا سکے اور اسے “شہریوں پر حملہ” قرار دے کر عالمی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔

بنیادی مسئلہ اور حل

سکیورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سرحد پر موجود کشیدگی کا واحد حل یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود پاکستان مخالف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ جب تک یہ گروہ افغانستان کے اندر آپریشنل سہولت اور محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں، سرحد پر امن کا قیام ایک چیلنج رہے گا۔ پاکستان نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال بند کیا جائے، بصورت دیگر سرحد پر سیکیورٹی کشیدگی کا تسلسل ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی ایک بڑی لاجسٹک ٹرین فوجی ساز و سامان اور بھاری گولہ بارود لے کر ریاست گجرات کی بین الاقوامی سرحد کی جانب روانہ کر دی گئی ہے

April 30, 2026

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ “معرکہء حق” محض ایک فوجی مرحلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی کاوش تھی جس میں وزیراعظم کی قیادت میں حکومتی عزم اور عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ مہارت ایک ہی صفحے پر نظر آئی۔

April 29, 2026

میں جب ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، یہ تعلیمی بورڈ سالانہ تقریباً پچاس ارب روپے پاکستان سے باہر منتقل کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ پرچے کی حفاظت یقینی بنانے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔

April 29, 2026

شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی جانوں کے تئیں طالبان کی بے حسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے معصوموں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی روش کو ظاہر کرتا ہے۔

April 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *