ضلع لکی مروت کی ٹرائبل سب ڈویژن بیٹنی میں دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے کے دوران پولیس کی گاڑی کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم معمول کے مطابق گشت پر مامور تھی کہ اچانک دھماکہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او تھانہ شادی خیل صدر اعظم، کانسٹیبل شاہ بہرام، شاہ خالد، حاجی محمد، گل زادہ اور سخی زادہ شہید ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک کانسٹیبل انصاف الدین زخمی بھی ہوا ہے، جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کا نوٹس اور ہدایات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے لکی مروت میں پولیس گاڑی پر دھماکے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان صوبائی حکومت سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے زخمی کانسٹیبل کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور شہدا کے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔
تحقیقات کا آغاز
سہیل آفریدی نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی ایسی کارروائیاں فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور اس حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔