افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جبکہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں مصدقہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان کا ہدف صرف دہشتگرد کیمپ، لاجسٹک مراکز اور آپریشنل نیٹ ورکس تھے۔
ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے اندر دہشتگرد حملوں میں ملوث عناصر کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے سرحدی علاقوں کی جانب دیسی ساختہ ڈرونز فائر کیے گئے، جو بعض مقامات پر شہری آبادی کے قریب گرے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز سے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں ہوا تاہم اس طرح کے واقعات سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف تھیں جبکہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کو سرحد پار دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کیلئے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
علاقائی مبصرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سرحدی علاقوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
دیکھئیے:افغانستان سے فائر ہونے والے کامیکازے ڈرون سے پاکستان میں تین بچے زخمی