اسلام آباد: افغان طالبان کے گرینڈ مفتی عبدالرؤف کی جانب سے پاکستان کے خلاف “جہاد” سے متعلق مبینہ فتویٰ سامنے آنے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے، انہوں نے مبینہ طور پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی حمایت کی اپیل بھی کی، جبکہ ان کا سابق مؤقف اس کے برعکس رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مفتی عبدالرؤف نے 2023 میں واضح طور پر کہا تھا کہ کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف سرحد پار حملے غیر اسلامی اور حرام ہیں۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ ریاست کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی کارروائی “جہاد” نہیں بلکہ دہشتگردی شمار ہوگی۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بیان ان کے سابق مؤقف سے واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔
⭕️Taliban Grand Mufti Issues Jihad Fatwa Against Pakistan
— Pak-Afghan Matters (@pakafghanmatter) March 17, 2026
Mufti Abdul Rauf Etminan, the Taliban Grand Mufti, has called on religious scholars, politicians & people in Pakistan to support the TTP & BLA in attacks against Pakistan and its army.
🗣️In a video released today, he… pic.twitter.com/e5CjWNmRtI
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف شدت پسند گروہوں کو تقویت دیتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھاتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی پہلے ہی افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کر رہی ہے، جس پر پاکستان متعدد بار تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی عمل کو پہلے حرام قرار دیا جائے اور بعد میں اسی کو “جہاد” کے نام پر جائز ٹھہرایا جائے تو یہ مذہبی اصولوں کے بجائے سیاسی مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان طالبان واضح طور پر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو غیر اسلامی قرار دیں، تاہم حالیہ بیانات کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے
دیکھئیے:افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہےان کیلئےٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان، ڈی جی آئی ایس پی آر