پاکستان کے جید علمائے کرام، مفتیانِ عظام اور تمام مکاتبِ فکر نے افغان مولوی کی جانب سے پاک فوج کے خلاف جاری کیے گئے نام نہاد “جہادی فتوے” کو قرآن و سنت کی واضح تحریف اور خوارجی فکر کا تسلسل قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ دینی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند گروہ ٹی ٹی پی کی حمایت میں دیا گیا یہ بیان شرعی اصولوں کے بجائے محض سیاسی ایجنڈے اور فتنہ پروری پر مبنی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے ممتاز علماء نے اس فتوے کے مندرجات کا علمی و شرعی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور قرآنِ کریم کی رو سے جہاد صرف ان کے خلاف جائز ہے جو مسلمانوں سے لڑتے ہوں۔ علمائے کرام کا مؤقف ہے کہ “جہاد” کے مقدس نام پر گمراہی پھیلائی جا رہی ہے، جبکہ حقیقت میں پاک فوج بے گناہوں کے لہو سے ہولی کھیلنے والے عناصر کا خاتمہ کر کے ارضِ پاک کا دفاع کر رہی ہے۔
غیر متعلقہ ’امیر‘ کی اطاعت کا فریب
علمائے کرام نے فتوے میں ایک غیر متعلقہ شخص کی اطاعت کو پاکستانیوں پر لازم قرار دینے کے حکم کو سراسر خلافِ شریعت قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا کہ جب حکم ہی ظلم، معصیت اور خونریزی کا ہو تو وہاں اطاعت نہیں بلکہ انکار فرض ہو جاتا ہے۔ علمائے کرام نے متنبہ کیا کہ کسی خود ساختہ امیر کے پیچھے لگ کر اپنے ہی ملک کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلام کی روح کے منافی ہے۔
احادیث کا استعمال اور خوارجی فکر
دینی حلقوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ “جماعت توڑنے والے کو قتل کرو” جیسی احادیث کو توڑ مروڑ کر ریاست کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ علماء کے مطابق پاکستان میں نظام کو سبوتاژ کرنے والی اصل قوت ٹی ٹی پی ہے، لہٰذا ایسی احادیث کا اطلاق ان دہشت گردوں پر ہوتا ہے نہ کہ ریاست کے محافظوں پر۔ پاک فوج کو “کفار سے بدتر” کہنا کھلی تکفیر ہے، جو اسلام کی نہیں بلکہ فتنہِ خوارج کی دیرینہ پہچان رہی ہے۔
پاکستان دشمنی یا اسلام؟
علماء نے فتوے میں لگائے گئے ان الزامات کو بھی لغو قرار دیا کہ پاکستان نے افغانوں پر ظلم کیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر کے اسلامی اخوت کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے۔ قرآنِ مجید کا حکم “صلح” کا ہے، جبکہ یہ فتویٰ صلح کے بجائے فساد اور جنگ کی آگ بھڑکانے کی مذموم کوشش ہے۔
علماء نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ ریاست کے خلاف بغاوت اسلام نہیں بلکہ جرم ہے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہ، جو اسکولوں، مساجد اور معصوم بچوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان کی حمایت کرنا دین سے خیانت ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستان کا فضائی حملہ؛ طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوے مسترد