محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں ادویات کے بجٹ کے استعمال میں کروڑوں روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیاں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز پشاور کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم سرکاری دستاویز نے صوبے کے بڑے ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں میں قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑانے کا انکشاف کیا ہے، جس پر متعلقہ انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا گیا ہے۔
بجٹ کا غیر قانونی استعمال اور انکشافات
محکمہ صحت کے مراسلے کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران صوبے کے متعدد ہسپتالوں نے ادویات کے لیے مختص کردہ بجٹ کو طے شدہ طریقہ کار کے برعکس استعمال کیا۔ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بجٹ کی رقم ان مدات میں خرچ کی گئی جو قواعد کے مطابق ممنوع تھیں، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا بلکہ ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کا عمل بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
شوکاز نوٹس کی زد میں آنے والے ہسپتال
ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز نے صوبے کے اہم ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں کو مراسلے ارسال کیے ہیں جن میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ان ہسپتالوں میں درج ذیل شامل ہیں:
ضلعی ہسپتال: چارسدہ، باجوڑ، مہمند، بٹگرام، کوہاٹ، مردان، مانسہرہ، مالاکنڈ اور لوئر چترال، تدریسی ہسپتال سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سوات، بینظیر بھٹو ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد اور ایم آر ایم ایچ پبی (نوشہرہ)۔
محکمہ صحت کی سخت کاروائی
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کی تصدیق ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ صحت نے تمام ہسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجٹ کے استعمال کی مکمل تفصیلات اور آڈٹ پیراز پر اپنی وضاحت فوری طور پر جمع کرائیں تاکہ عوامی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔