خیبر پختوخوا میں عید کے موقع پر جب پوری قوم خوشیوں میں مگن تھی، سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو گردش کرنے لگی جس نے سکیورٹی و عوامی حلقوں کو فکر میں مبتلا کر دیا۔ ویڈیو میں کچھ مسلح دہشت گرد معصوم بچوں کے ساتھ عید مناتے دکھائے گئے۔ بظاہر یہ ایک ‘معصومانہ’ سرگرمی نظر آتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک ایسا ہولناک اور پرانا ‘وطیرہ’ چھپا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پختونخوا کے فرزندوں کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ یہ کہانی فقط ایک ویڈیو کی نہیں بلکہ اس سوچی سمجھی سازش کی ہے جو عید جیسے مقدس تہوار کو بھی اپنے ناپاک عزائم کے لیے استعمال کرتی ہے۔
معصوم ذہنوں پر وار
عید الفطر اور عید الاضحیٰ جیسے مواقع پر جب بچے نئے کپڑوں، عیدی اور کھلونوں کی خوشی میں نہال ہوتے ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کے کارندے انہیں اپنا ہدف بناتے ہیں۔ ان کا مقصد بہت سادہ مگر خطرناک ہے: بچوں کے کچے ذہنوں میں یہ بات بٹھانا کہ ‘بندوق’ اور ‘تشدد’ بھی عید کی خوشی کا حصہ ہیں۔ جہاں بچوں کے ہاتھوں میں قلم یا رنگ برنگے غبارے ہونے چاہیے تھے وہاں انہیں ٹی ٹی پی کے جھنڈوں اور کلاشنکوفوں کے سائے میں کھڑا کر دیا گیا۔ یہ عید کی خوشی نہیں، بلکہ معصومیت کا وہ سیاسی اور نظریاتی قتل ہے جس کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا۔
نوجوانوں کا شکار
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ان گروہوں کی صفوں میں زیادہ تر چہرے 15 سے 20 سال کے لڑکوں کے ہوتے ہیں۔ یہ وہ عمر ہے جب جذبات عقل پر غالب ہوتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے کارندے شکاریوں کی طرح ایسے نوجوانوں پر نظر رکھتے ہیں اور عید کے میلوں یا عوامی اجتماعات میں ان سے ہمدردی جتاتے ہیں۔ ان کا ‘طریقہِ واردات’ ہمیشہ سے یہی رہا ہے: پہلے خواب دکھانا، پھر مذہب کی غلط تشریح کرنا اور آخر میں انہیں ایک ایسی راہ پر ڈال دینا جہاں سے واپسی کا راستہ صرف موت یا جیل ہے۔ جسے یہ گروہ جنت کا نام دیتے ہیں۔
منشیات پہلا قدم
ایک تلخ سچ جس سے اکثر پردہ نہیں اٹھایا جاتا، یہ ہے کہ یہ گروہ ریاست کے بیٹوں کو منشیات کا عادی بناتے ہیں۔ نشے کی لت لگا کر ان نوجوانوں کو معاشرے اور خاندان سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ جب ایک نوجوان نشے کا عادی بن جاتا ہے، تو وہ ان گروہوں کے لیے ایک ‘آسان ہدف’ بن جاتا ہے۔ پھر اسی نشے کی سپلائی اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں بم دھماکوں اور بدامنی پھیلانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ عید کے موقع پر ایسی ویڈیوز بنا کر یہ گروہ دراصل ان نوجوانوں کو ‘ہیرو’ بننے کا جھوٹا احساس دلاتے ہیں تاکہ مزید لڑکے ان کے جال میں پھنس سکیں۔
عوامی حمایت؟
ٹی ٹی پی اور اس جیسے دیگر کالعدم و دہشت گروہ ہمیشہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے پورا گاؤں یا قصبہ ان کے ساتھ کھڑا ہے، انکے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یہ سراسر سفید جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی علاقے میں ان کے گنے چنے چند حمایتی یا کرائے کے سہولت کار ہوتے ہیں، جبکہ علاقے کی بھاری اکثریت ان سے شدید نفرت کرتی ہے۔ یہ لوگ عید کی آڑ میں آبادیوں میں گھس کر زبردستی بچوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور کیمرے کے سامنے نعرے لگواتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ عوام ان کے ساتھ ہے۔ باڑہ کے غیرت مند عوام نے ہمیشہ ان کے خلاف قربانیاں دی ہیں، اور یہ ‘سافٹ پراپیگنڈا’ دراصل آپریشن ‘غضبُ للحق’ سے پیدا ہونے والی ان کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔
یہ رپورٹ کسی مخصوص گروہ کی تشہیر نہیں، بلکہ ہمارے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک پکار ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹی ٹی پی ایک ایسا ‘وطیرہ’ ہے جو منشیات سے شروع ہو کر بارود پر ختم ہوتا ہے۔ عید کی خوشیاں امن اور بھائی چارے کے لیے ہیں، نہ کہ نفرت اور اسلحے کی نمائش کے لیے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو ان ‘شکاریوں’ سے بچانا ہوگا جو مقدس تہواروں کے تقدس کو پامال کر کے ان کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔