اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان اور افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر ایک پائیدار اور مستقل جنگ بندی پر عمل درآمد کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اکتوبر 2025 کے بعد پیدا ہونے والے سنگین حالات اور حالیہ جھڑپوں کے تناظر میں ایک جامع امن معاہدے تک پہنچیں تاکہ خطے میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
سرحد پار حملوں پر تشویش
رپورٹ میں تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے پاکستان میں بڑھتے ہوئے حملوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ طالبان حکام سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین سے دوسرے ممالک کے خلاف کاروائیاں کرنے سے روکیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ریاست کو اپنے علاقے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت یا چشم پوشی کا حق حاصل نہیں ہے۔
بین الاقوامی قوانین کی پاسداری
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے پاکستان کے فضائی حملوں پر قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں اور شہری مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
عید کے موقع پر عارضی جنگ بندی
موجودہ حالات میں ایک مثبت پیش رفت سعودی عرب، ترکی اور قطر کی درخواست پر سامنے آئی ہے، جس کے تحت عید کی تقریبات کے پیشِ نظر دونوں فریقین نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس عارضی وقفے کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے سفارتی ذرائع اور پرامن مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا تاکہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کو درپیش خطرات کا خاتمہ ہو سکے۔
دیکھیے: دہشت گردی کی آگ اور پاکستان ، زخم بھی ہمارا، محاذ بھی ہمارا،