ایران نے علی لاریجانی کے بعد ان کے جانشین کا انتخاب کر لیا ہے۔ محمد باقر ذوالقدر کو ایران کی طاقتور اور بااثر “سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل” کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ایران کو خطے میں سنگین سکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔
سیاسی بصیرت اور عسکری مہارت
نئے سربراہ محمد باقر ذوالقدر کا شمار ایرانی نظام کے انتہائی تجربہ کار اور حساس ترین عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران کو ایک ایسے جانشین کی تلاش تھی جو نہ صرف گہری سیاسی بصیرت رکھتا ہو بلکہ میدانِ جنگ کے داؤ پیچ اور عسکری حکمت عملی کا بھی ماہر ہو۔ محمد باقر ذوالقدر میں یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں، جو انہیں موجودہ بحرانی صورتحال کے لیے موزوں ترین انتخاب بناتی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے بانی رکن
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ذوالقدر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد جب پاسدارانِ انقلاب کی بنیاد رکھی گئی، تب سے وہ اس فورس کے اہم عسکری عہدوں پر تعینات رہے۔ وہ آئی آر جی سی کے ڈپٹی کمانڈر بھی رہ چکے ہیں اور انہیں جنگی منصوبہ بندی کا ماہر تصور کیا جاتا ہے۔
مستقبل کے چیلنجز
محمد باقر ذوالقدر 2023 سے ایران کی مجمع تشخیص مصلحت نظام (ایکسپیڈینسی کونسل) کے سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اب سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی بنیادی ذمہ داری ایران کی داخلی سلامتی، دفاعی پالیسی کی تشکیل اور خطے میں جاری کشیدگی، خاص طور پر حالیہ جنگی صورتحال میں تہران کے اگلے اقدامات کا تعین کرنا ہوگی۔