ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم چار فریقی اجلاس اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشاورت کے دوران چاروں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس موجودہ علاقائی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے نہ صرف خطے میں ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ مسلم دنیا کے درمیان سفارتی روابط کو بھی مزید تقویت ملے گی۔
اس سے قبل اسی سلسلے میں مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی دعوت پر اسلام آباد پہنچے۔ ائیرپورٹ پر ان کا استقبال ایڈیشنل فارن سیکرٹری سید احمد معروف نے کیا۔ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وہ وزیر اعظم سے ملاقات کے علاوہ علاقائی اور عالمی امور پر اہم مشاورت کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان اور مصر کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فدان بھی اسلام آباد پہنچے، جہاں انہیں نور خان ایئربیس پر ایڈیشنل فارن سیکرٹری (افغانستان و مغربی ایشیا) سید علی اسد گیلانی نے خوش آمدید کہا۔ حکان فدان اس اہم چار فریقی اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے دوطرفہ ملاقات بھی کریں گے، جس میں باہمی تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھی اس اجلاس میں شرئک تھے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ، اور پاکستان-افغانستان سرحدی معاملات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اس موقع پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔