اسلام آباد: جنیوا اور یورپ کے دیگر شہروں میں بلوچستان کے موضوع پر منعقد ہونے والی حالیہ کانفرنسز نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا عالمی فورمز کو انسانی حقوق کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا مخصوص سیاسی ایجنڈوں کے فروغ کے لیے۔ ان کانفرنسز میں پیش کیے گئے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایک یکطرفہ اور مبالغہ آمیز بیانیہ عالمی سطح پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں تاریخی حقائق، سکیورٹی تناظر اور زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔
مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں کسی بھی خودمختار ریاست کی ساکھ کو متاثر کرنے کی دانستہ کوشش ہوتی ہیں، جہاں داخلی معاملات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر عالمی سطح پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے “جبری قبضہ”، “نسل کشی” اور “منظم جبر” جیسے الزامات نہ صرف متنازع ہیں بلکہ ان کی بنیاد بھی اکثر غیر مصدقہ یا جزوی معلومات پر ہوتی ہے، جبکہ ریاستی سطح پر جاری ترقیاتی اقدامات، سیاسی نمائندگی اور آئینی ڈھانچے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے فورمز پر سرگرم عناصر نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتے ہیں بلکہ ملک کے اندر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں، جس سے بیرونی بیانیوں کو تقویت ملتی ہے۔ مزید برآں، دہشت گردی، شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں اور علاقائی سکیورٹی چیلنجز کو نظر انداز کر کے صرف ایک رخ کو اجاگر کرنا ایک غیر متوازن تصویر پیش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی فورمز کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف ان اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ حقیقی انسانی حقوق کے مسائل کو بھی پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حقائق پر مبنی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تاکہ کسی بھی گمراہ کن بیانیے کا بروقت اور مضبوط جواب دیا جا سکے۔
دیکھئیے:بنوں میں دہشت گردوں کا پولیس وین پر حملہ، اے ایس آئی شہید، گاڑی نذرِ آتش