چین کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے

March 31, 2026

اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور عوامی زندگی پر عائد سخت پابندیوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے

March 31, 2026

یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے نظریات نے ہر دور میں امن کے بجائے جنگ اور اصلاح کے بجائے فساد کی آبیاری کی ہے۔ تاریخ کا کوئی بھی موڑ ہو، یہودیت نے ہمیشہ سازشوں کے جال بن کر مستحکم ریاستوں میں انتشار پھیلایا اور بھائی کو بھائی سے دست و گریبان کر کے اپنے مفادات حاصل کیے۔

March 31, 2026

اس ممکنہ کارروائی کے ذریعے بھارت بین الاقوامی سطح پر پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینا چاہتا ہے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز سے توجہ ہٹانا اس کا ایک اہم ہدف ہو سکتا ہے۔

March 31, 2026

میں کسی پر الزام ہرگز نہیں لگانا چاہتا، ججمنٹ دینے کا بھی کوئی ارادہ نہیں۔ ہم حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بھی نہیں بانٹتے، تاہم اگر کوئی تجزیہ کار اگرتلہ سازش کیس اور جس طرح را نے مشرقی پاکستان کا پورا آپریشن کیا، اس کی تفصیل پڑھنے کے بعد وہ بلوچستان کی انسرجنسی پر نظر ڈالے، بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ کی سرگرمیاں دیکھے اور ان کے بیانیہ کا جائزہ لے تو حیران کن حد تک مشابہت نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ مشرقی پاکستان کا سکیوئل ہے، را کا مشرقی پاکستان آپریشن ٹو۔

March 31, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل الزامات، اشتعال انگیزی اور نئے تنازعات پیدا کرنے کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تحریک عوامی مسائل کے حل سے زیادہ سیاسی فائدے کے حصول پر مرکوز ہو چکی ہے۔

March 31, 2026

چین کا اسلام آباد پر اعتماد؛ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے حل میں پاکستان کی کوششیں ناگزیر قرار

چین کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے
چین کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے

چینی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ بیجنگ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ چین، پاکستان کے ثالثی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے

March 31, 2026

چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل اور امریکہ و ایران کے مابین فاصلے کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی کھل کر حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ پیر کے روز بیجنگ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین، پاکستان کی ان تمام کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کر رہا ہے۔

چینی ترجمان نے علاقائی استحکام کے لیے اسلام آباد کے متحرک کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صورتحال میں نرمی لانے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ چین اس مؤقف کی مکمل تائید کرتا ہے کہ پاکستان اپنا ثالثی کردار جاری رکھے تاکہ خطے کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ بیجنگ، پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اور عالمی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کے سفارتی کردار کی یہ تائید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت نازک ہے اور عالمی طاقتیں کسی ایسے قابلِ قبول حل کی تلاش میں ہیں جو خطے میں جنگ کے بادلوں کو چھٹ چھٹا سکے۔ چین کا یہ بیان نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عالمی امن کے لیے بیجنگ اور اسلام آباد ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔

دیکھیے: امتِ مسلمہ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہوگا؛ اسحاق ڈار

متعلقہ مضامین

اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور عوامی زندگی پر عائد سخت پابندیوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے

March 31, 2026

یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے نظریات نے ہر دور میں امن کے بجائے جنگ اور اصلاح کے بجائے فساد کی آبیاری کی ہے۔ تاریخ کا کوئی بھی موڑ ہو، یہودیت نے ہمیشہ سازشوں کے جال بن کر مستحکم ریاستوں میں انتشار پھیلایا اور بھائی کو بھائی سے دست و گریبان کر کے اپنے مفادات حاصل کیے۔

March 31, 2026

اس ممکنہ کارروائی کے ذریعے بھارت بین الاقوامی سطح پر پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینا چاہتا ہے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز سے توجہ ہٹانا اس کا ایک اہم ہدف ہو سکتا ہے۔

March 31, 2026

میں کسی پر الزام ہرگز نہیں لگانا چاہتا، ججمنٹ دینے کا بھی کوئی ارادہ نہیں۔ ہم حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بھی نہیں بانٹتے، تاہم اگر کوئی تجزیہ کار اگرتلہ سازش کیس اور جس طرح را نے مشرقی پاکستان کا پورا آپریشن کیا، اس کی تفصیل پڑھنے کے بعد وہ بلوچستان کی انسرجنسی پر نظر ڈالے، بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ کی سرگرمیاں دیکھے اور ان کے بیانیہ کا جائزہ لے تو حیران کن حد تک مشابہت نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ مشرقی پاکستان کا سکیوئل ہے، را کا مشرقی پاکستان آپریشن ٹو۔

March 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *