اسلام آباد: پہلگام واقعے کی برسی سے قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان بیان بازی میں شدت آ گئی ہے، جہاں بھارتی قیادت کی دھمکی آمیز تقاریر کے جواب میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بھارتی میڈیا اور حکام کی جانب سے ایک طرف سکیورٹی الرٹس اور ممکنہ خطرات کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے خلاف الزامات اور سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
بھارتی مؤقف اور بیانات
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ اگر پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کی “ناپاک حرکت” کی گئی تو بھارتی افواج منہ توڑ جواب دیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلگام واقعے کے بعد شروع کیا گیا “آپریشن” اب بھی جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ سرحد پار بھی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
اس سے قبل بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کمار تریپاٹھی نے بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال بھارت پاکستان کے خلاف بحری کارروائی سے “چند منٹ دور” تھا۔
بھارتی میڈیا میں یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض حلقے پاکستان پر ممکنہ خطرات کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
پاکستانی مؤقف اور خواجہ آصف کا ردعمل
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طاقت نہیں بلکہ تزویراتی بے چینی کا اظہار ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلگام واقعے کی برسی قریب آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ ایک ایسا معاملہ تھا جو بین الاقوامی جانچ میں ثابت نہ ہو سکا اور اس نے بھارت کی بحران سازی کی حکمت عملی کو بے نقاب کیا۔
خواجہ آصف کے مطابق بھارت داخلی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے بیرونی خطرات کا بیانیہ بناتا ہے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے کشیدگی کو ہوا دیتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، تاہم اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے۔ “پاکستان کا ردعمل تیز، متوازن اور فیصلہ کن ہوگا۔”
وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور نہایت خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اس لیے بھارت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے معرکۂ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عزم واضح ہے اور کسی بھی مہم جوئی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
صورتحال اور خدشات
تجزیہ کاروں کے مطابق پہلگام واقعے کی برسی کے قریب آتے ہی بیانات میں شدت اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی مختلف دعوے اور خدشات گردش کر رہے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بیان بازی خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے، جس کے باعث ذمہ دارانہ سفارتکاری اور محتاط رویہ ناگزیر ہے۔