دہشت گردی کے لیے افغان مہاجرین کا استعمال؛ وزیرستان آپریشن کے بعد اہم حقائق منظرِ عام پر

شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے ٹی ٹی پی کے 8 دہشت گردوں میں سے دو کی شناخت افغان باشندوں کے طور پر ہوئی ہے، جو ماضی میں پاکستان میں بطور مہاجر مقیم رہے تھے
شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے ٹی ٹی پی کے 8 دہشت گردوں میں سے دو کی شناخت افغان باشندوں کے طور پر ہوئی ہے، جو ماضی میں پاکستان میں بطور مہاجر مقیم رہے تھے

شمالی وزیرستان میں ہلاک دہشت گردوں میں افغان باشندوں کی موجودگی کا انکشاف۔ سکیورٹی فورسز کے دتہ خیل آپریشن میں ہلاک 8 دہشت گردوں میں شامل دو افغان شہری ماضی میں پاکستان میں مہاجر کیمپوں میں رہ چکے ہیں

April 4, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز کے حالیہ آپریشن کے حوالے سے اہم ترین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ یکم اپریل کو ہونے والے اس کامیاب آپریشن میں ہلاک ہونے والے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 8 دہشت گردوں میں سے دو کی شناخت افغان باشندوں کے طور پر ہوئی ہے، جو ماضی میں پاکستان میں بطور مہاجر مقیم رہے تھے۔

دہشت گردوں کی شناخت

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے پہلے افغان دہشت گرد کی شناخت عبدالرحمن ولد زر ولی کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کا رہائشی تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دہشت گرد ماضی میں پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں قیام پذیر رہا تھا، جہاں اس نے مہاجر کی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی۔

دوسرے دہشت گرد کی شناخت امیر حمزہ حقیار ولد عبدالکریم کے طور پر ہوئی ہے، جسے 2023 میں غیر قانونی قیام اور دیگر وجوہات کی بنا پر چمن بارڈر کراسنگ کے ذریعے پاکستان سے افغانستان ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ ڈی پورٹ کیے جانے کے باوجود وہ دوبارہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوا اور ٹی ٹی پی کے پلیٹ فارم سے سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہا۔

سفارتی اور تزویراتی مضمرات

دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والے شواہد اور ان کی شناخت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغان باشندے براہِ راست ملوث ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد کا دوبارہ دہشت گردی کے لیے پاکستان میں داخل ہونا سرحد پار سے مسلسل ملنے والی معاونت اور مانیٹرنگ کے نظام پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ خطے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا اور کسی بھی غیر ملکی باشندے کو پاکستانی سرزمین پر تخریب کاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *