شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز کے حالیہ آپریشن کے حوالے سے اہم ترین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ یکم اپریل کو ہونے والے اس کامیاب آپریشن میں ہلاک ہونے والے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 8 دہشت گردوں میں سے دو کی شناخت افغان باشندوں کے طور پر ہوئی ہے، جو ماضی میں پاکستان میں بطور مہاجر مقیم رہے تھے۔
دہشت گردوں کی شناخت
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے پہلے افغان دہشت گرد کی شناخت عبدالرحمن ولد زر ولی کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کا رہائشی تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دہشت گرد ماضی میں پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں قیام پذیر رہا تھا، جہاں اس نے مہاجر کی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی۔
دوسرے دہشت گرد کی شناخت امیر حمزہ حقیار ولد عبدالکریم کے طور پر ہوئی ہے، جسے 2023 میں غیر قانونی قیام اور دیگر وجوہات کی بنا پر چمن بارڈر کراسنگ کے ذریعے پاکستان سے افغانستان ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ ڈی پورٹ کیے جانے کے باوجود وہ دوبارہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوا اور ٹی ٹی پی کے پلیٹ فارم سے سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہا۔
سفارتی اور تزویراتی مضمرات
دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والے شواہد اور ان کی شناخت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغان باشندے براہِ راست ملوث ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد کا دوبارہ دہشت گردی کے لیے پاکستان میں داخل ہونا سرحد پار سے مسلسل ملنے والی معاونت اور مانیٹرنگ کے نظام پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ خطے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا اور کسی بھی غیر ملکی باشندے کو پاکستانی سرزمین پر تخریب کاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔