کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی سخت گیر مذہبی ذہن سازی اور نظریاتی کنٹرول میں غیر معمولی شدت دیکھی جا رہی ہے۔ افغان میڈیا اطلاعات روز کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق طالبان نے اب نجی جامعات (پرائیویٹ یونیورسٹیوں) کے طلبہ کے لیے بھی حنفی مسلک کی پیروی کا حلف لینے کی لازمی شرط عائد کر دی ہے۔ کابل کی ‘میہان پرائیویٹ یونیورسٹی’ سے سامنے آنے والے اس لازمی حلف نامے کی شق نمبر چھ براہِ راست مذہب اور مسلک کی تبدیلی کی ممانعت سے متعلق ہے، جس پر دستخط کرنا تمام طلبہ کے لیے فرض قرار دیا گیا ہے۔
جبری اطاعت کی پالیسی
سفارتی اور سماجی ماہرین کے مطابق حنفی مسلک سے وابستگی کا یہ لازمی حلف نامہ افغانستان کے مذہبی تنوع کو براہِ راست نشانہ بنا رہا ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے ملک میں آباد شیعہ، اسماعیلی، سلفی اور دیگر غیر حنفی برادریوں کو طالبان کے مذہبی اختیار کے تحت جبری نظریاتی اطاعت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ غیر حنفی روایات اور اقلیتوں کے خلاف اسی نوعیت کی امتیازی پالیسیوں کی اطلاعات افغانستان کے مختلف حصوں سے پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔
اسنادی که به اطلاعات روز رسیده است، نشان میدهد که طالبان از دانشجویان دانشگاههای خصوصی نیز تعهد میگیرند که از مذهب حنفی پیروی کنند.
— اطلاعات روز | Etilaatroz (@Etilaatroz) May 25, 2026
یک نسخه از تعهدنامهی اجباری دانشجویان به دانشگاههای خصوصی که به اطلاعات روز رسیده، مربوط به دانشگاه خصوصی میهن در کابل است.
ماده ششم این سند… pic.twitter.com/OPGQ4tgtEA
یہ پالیسی دراصل طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد افغانستانی معاشرے کو مرکزی نظریاتی کنٹرول کے تحت ڈھالنا ہے، جہاں کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے کو جرم اور مکمل اطاعت کو مذہبی فریضہ تصور کیا جاتا ہے۔
تعلیم اور نظریات
دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران طالبان نے جدید تعلیم، سائنس اور پیشہ ورانہ تربیت کے مقابلے میں مذہبی ذہن سازی کو ترجیح دی ہے۔ اس مدت میں طالبان نے مبینہ طور پر تقریباً 23 ہزار ادارے قائم کیے جن میں 30 لاکھ سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ اس کے برعکس صرف 269 جدید اسکول تعمیر کیے گئے۔
مزید برآں،شیخ ہیبت اللہ سے منسلک براہِ راست احکامات کے تحت جدید اسکولوں سے تقریباً 90 ہزار تدریسی اسامیاں یکسر ختم کر دی گئیں، جبکہ طالبان سے منسلک ادارے کے لیے ایک لاکھ نئی تدریسی اسامیاں تخلیق کی گئیں، جو حکومتی ترجیحات کو واضح کرتی ہیں۔
روزگار کو تعلیم سے مشروط کرنا
طالبان کی یہ تعلیمی انجینئرنگ صرف اداروں تک محدود نہیں بلکہ نصاب کو بھی مکمل طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں 51 بنیادی مضامین کو درسی کتابوں سے نکال دیا گیا ہے اور ہزاروں مخصوص مذہبی کتابیں سرکاری نیٹ ورکس کے ذریعے تقسیم کی جا رہی ہیں تاکہ تنوع اور تنقیدی سوچ کو دبایا جا سکے۔
اب طالبان نظام میں خوراکی امداد، سرکاری ملازمتوں اور بنیادی سماجی سہولیات تک رسائی کو بھی طالبان کے منظور شدہ تعلیمی نصاب سے مشروط کیا جا رہا ہے، تاکہ تعلیم کو دباؤ، انحصار اور وفاداری پیدا کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
عالمی سلامتی کے لیے خدشات
مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ کا یہ نظام اب ایسے علماء، سائنسدان، ڈاکٹر یا پیشہ ور افراد پیدا کرنے کے بجائے تعلیم کو ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس کا مقصد سخت گیر عقائد، فرقہ وارانہ بالادستی اور انتہا پسند سیاسی مذہبی سوچ رکھنے والی نسل تیار کرنا ہے۔
اقوامِ متحدہ سے منسلک جائزہ رپورٹس، جن میں طالبان کے 20 سے زائد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے روابط پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے، اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہیں کہ یہ تعلیمی توسیع اور وسیع مدرسہ نظام مستقبل میں افغانستان سے باہر بھی انتہا پسند نظریات برآمد کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ طالبان حکومت ایک بند نظریاتی نظام تشکیل دے کر نسل در نسل ذہن سازی اور شیخ ہبت اللہ کے کنٹرول میں سخت گیر طالبان نظریے کی ترویج چاہتی ہے۔