"> مذاکرات سے قبل اسرائیلی حملے نے امریکا ایران امن عمل سبوتاژ کر دیا، اسحاق ڈار - HTN Urdu مذاکرات سے قبل اسرائیلی حملے نے امریکا ایران امن عمل سبوتاژ کر دیا، اسحاق ڈار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مذاکرات سے قبل اسرائیلی حملے نے امریکا ایران امن عمل سبوتاژ کر دیا، اسحاق ڈار

جیسے ہی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب پہنچے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس تمام صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔
اسحاق ڈار نے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرا دیا

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا تھا اور “کل رات تک ہم بہت پرامید تھے”، تاہم اچانک پیشرفت نے صورتحال کو بدل دیا۔

April 7, 2026

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عین اس وقت حملہ کیا گیا جب دونوں فریق مذاکرات کے قریب تھے۔

سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا تھا اور “کل رات تک ہم بہت پرامید تھے”، تاہم اچانک پیشرفت نے صورتحال کو بدل دیا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب پہنچے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس تمام صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں کلیدی کردار ادا کیا، حتیٰ کہ 15 نکاتی امریکی تجاویز ایران تک اور ایران کی 5 نکاتی شرائط امریکا تک پہنچائی گئیں، جس سے جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف ایران پر حملے کی مذمت کی بلکہ فوری طور پر خطے کے اہم ممالک سے رابطے کر کے جنگ بندی کیلئے سہولت کار کا کردار بھی ادا کیا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کسی کریڈٹ یا تمغے کی خواہش نہیں، بلکہ مقصد صرف خطے میں امن کا قیام ہے، اور پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے گا۔

سفارتی حلقوں کے مطابق اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان فعال ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، تاہم حالیہ عسکری پیشرفت نے امن کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔

دیکھئیے:سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز پر قرارداد مسترد، روس و چین کا ویٹو، پاکستان نے ووٹنگ سے گریز کیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *