"> صیہونی سوچ عالمی امن کیلئے خطرہ: معاہدے کے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں؛ شہباز شریف نے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا - HTN Urdu صیہونی سوچ عالمی امن کیلئے خطرہ: معاہدے کے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں؛ شہباز شریف نے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

صیہونی سوچ عالمی امن کیلئے خطرہ: معاہدے کے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں؛ شہباز شریف نے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا

جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔
شہباز شریف کا پیغام

تجربہ کار اور نسبتاً معتدل قیادت کو ہدف بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے اور کوئی قابلِ اعتماد فریق بات چیت کیلئے باقی نہ رہے۔

April 8, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات امن عمل کی روح کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں بعض حلقوں نے اسرائیل کو جنگ بندی کا سب سے بڑا مخالف اور “سپائلر” قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں سیز فائر کی خلاف ورزی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا احترام کیا جائے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔

دوسری جانب تجزیاتی حلقوں میں یہ مؤقف شدت اختیار کر رہا ہے کہ جنگ بندی سے سب سے زیادہ ناخوش عناصر وہ ہیں جو خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق پورے تنازع کے دوران اسرائیل نے بارہا ایسے اقدامات کیے جن سے سفارتی عمل متاثر ہوا، جن میں اعلیٰ سطحی قیادت اور ممکنہ مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تجربہ کار اور نسبتاً معتدل قیادت کو ہدف بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے اور کوئی قابلِ اعتماد فریق بات چیت کیلئے باقی نہ رہے۔

ان حلقوں کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔

بیروت میں شہری علاقوں پر حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے سے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف سیز فائر غیر مؤثر ہو جائے گا بلکہ ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس وقت اصل امتحان جنگ بندی کا نہیں بلکہ اس کے تحفظ کا ہے، اور عالمی برادری کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو امن عمل کو سبوتاژ ہونے سے بچا سکیں۔

دیکھئیے:قومی اتحاد ہی بنیاد: اداروں کی ہم آہنگی اور عوامی حمایت سے پاکستان کے عالمی کردار میں اضافہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *