مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

مسلکی امتیاز عروج پر؛ طالبان کا شیعہ طلبا کو زبردستی حنفی بنانے کا حکم

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف نسلی گروہوں، خصوصاً غیر پشتون طلبہ، پر اپنی ثقافتی شناخت ترک کرنے کا دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں۔
مسلکی امتیاز عروج پر؛ طالبان کا شیعہ طلبا کو زبردستی حنفی بنانے کا حکم

طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات “شرعی اصولوں” اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم اس پر داخلی و خارجی سطح پر بحث اور تشویش کا سلسلہ جاری ہے۔

April 10, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے جامعات میں طلبہ پر سخت مذہبی اور ثقافتی پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل پایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے احکامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں طلبہ سے ایک حلف نامے پر دستخط لیے جا رہے ہیں، جس میں فقہ حنفی اختیار کرنے سمیت مخصوص طرزِ زندگی اپنانے کی شرط رکھی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حلف نامے میں طلبہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف فقہ حنفی کی پیروی کریں بلکہ مخصوص پشتون لباس پہنیں، سر ڈھانپ کر رکھیں، داڑھی رکھیں اور بالوں کا انداز بھی طالبان کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق رکھیں۔ اس کے علاوہ موسیقی سننے، تصاویر بنانے اور کسی بھی غیر سرکاری یا سیاسی تنظیم سے وابستگی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سزا قبول کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف نسلی گروہوں، خصوصاً غیر پشتون طلبہ، پر اپنی ثقافتی شناخت ترک کرنے کا دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں۔ اندازاً 60 فیصد غیر پشتون طلبہ ان پالیسیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تعلیمی ماحول میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

حال ہی میں کابل یونیورسٹی میں ایک واقعہ بھی رپورٹ ہوا، جہاں ایک ازبک طالب علم کو روایتی ٹوپی پہننے پر مبینہ طور پر سرعام تھپڑ مارا گیا اور اس کی تضحیک کی گئی۔ اس واقعے کے بعد سوشل اور تعلیمی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح بامیان یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات میں بھی ان اقدامات کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسیاں تعلیمی اداروں میں مذہبی اور ثقافتی یکسانیت مسلط کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، جو افغانستان جیسے کثیر النسلی اور کثیرالمسلکی معاشرے میں مزید تقسیم اور بے چینی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف تعلیمی آزادی کو محدود کرتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات “شرعی اصولوں” اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم اس پر داخلی و خارجی سطح پر بحث اور تشویش کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ردعمل سامنے آگیا۔

November 4, 2026

نیب اور ایف آئی اے نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔

November 4, 2026

پاکستان نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے اپنے پہلے مقامی ساختہ میزائل فاز کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *