پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے انتہائی اہم تزویراتی مذاکرات کے لیے ایران کے اعلیٰ سطح وفد کی باضابطہ فہرست جاری کر دی ہے۔ اس 86 رکنی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
وفد میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے تین اہم ارکان، مرکزی بینک کے گورنر ناصر ہمتی، چار نائب وزرائے خارجہ بشمول ترجمان دفترِ خارجہ اسماعیل بقائی، ارکانِ پارلیمان اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر جنرل اسماعیل احمدی مقدم شامل ہیں۔ یہ وفد تہران کے سیاسی، عسکری اور معاشی فیصلہ سازوں کا ایک طاقتور گلدستہ ہے جو دو طرفہ تعلقات کے نئے باب کا عکاس ہے۔
قدامت پسند حلقوں کی نمائندگی
مبصرین اس وفد میں دو ناموں علی باقری کنی اور محمد نبویان، کی موجودگی کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔ علی باقری کنی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب ہونے کے ساتھ ساتھ جوہری مذاکرات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، جبکہ محمد نبویان ایرانی پارلیمان کے سخت گیر قدامت پسند بلاک کے کلیدی رکن سمجھے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نبویان کی شمولیت اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو تہران کے طاقتور قدامت پسند حلقوں کی مکمل حمایت حاصل ہوگی، جس کے بعد ایران کے اندر اس فیصلے کی مخالفت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
سکیورٹی حصار کا پہلو
مرکزی بینک کے گورنر کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات میں بینکنگ چینلز کی بحالی اور پابندیوں کے باوجود معاشی تعاون کو فوری طور پر زیرِ بحث لایا جائے گا۔ اس دورے کا ایک اور اہم پہلو ایران کی اعلیٰ قیادت کا تحفظ ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اسرائیل کی جانب سے ایرانی حکام کو نشانہ بنائے جانے کے تناظر میں، 86 اہم ترین شخصیات کا ایٹمی قوت کے حامل ملک پاکستان آنا ایک محفوظ سیکیورٹی زون کی فراہمی ہے۔ فروری کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب ایرانی قیادت کسی بیرونی خطرے کے بغیر ایک پُرسکون اور محفوظ ماحول میں تزویراتی فیصلے کرنے کے لیے یکجا ہوگی۔