"> مذاکرات ناکام نہیں ہوئے - HTN Urdu مذاکرات ناکام نہیں ہوئے
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مذاکرات ناکام نہیں ہوئے

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔
مذاکرات ناکام نہیں ہوئے

مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ہوا ہے ۔ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کہی گئی ہے ، جس رجیم کو بدلنے کی بات کی جا رہی تھی اسی کے ساتھ بیٹھ کر بات کی ہے ۔ پیش کش اب بھی باقی ہے

April 12, 2026

تو کیا مذاکرات ناکام ہو گئے؟ جی نہیں ۔ بالکل بھی ناکام نہیں ہوئے ۔ مذاکرات بھی کامیاب ہیں اور پاکستان بھی سرخرو ہے ۔

ایک شور سا مچا ہے کہ مذاکرات کا عمل ناکام ہو گیا اور امریکی نائب صدر واپس چلے گئے ۔ عین ممکن ہے کہ اس شور کے ساتھ ، ابھی کچھ لوگ روایتی زہر بھرے لہجے کے ساتھ طعنے دینے بھی آ جائیں کہ پاکستانی ان مذاکرات پر بڑے خوش تھے تو لیجیے مذاکرات تو ناکام ہو گئے ۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ، کامیاب ہو ئے ہیں ۔ جو دھول اڑ رہی ہے ، اس پر نہ جائیے ، تحمل ، سنجیدگی اور ٹھہراؤ کے ساتھ معاملہ دیکھیے ، پاکستان کامیاب ہوا ہے اور آج بھی ایسا ہی سرخرو کھڑا ہے جیسا کل کھڑا تھا۔ پاکستان کی کامیابیاں تو بہت ہی شانداراور معنی خیز ہیں ۔

گاؤں میں بھی دو دشمن گھرانے مل بیٹھیں تو بعض اوقات پہلی ملاقات میں برف نہیں پگھلتی ۔ کبھی کبھار پگھل بی جاتی ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ وقت کو بدلتے ، وقت لگتا ہے۔ یہاں تو دو ریاستیں بیٹھی تھیں ۔ اگر پہلی ملاقات میں سب کچھ نبٹایا نہیں جا سکا تو اس میں پریشانی کیسی ۔مایوسی کس بات کی ؟

غور فرمائیے کہ بات چیت کے اختتام پر کیا ہوا۔ امریکہ نے کہا کہ ایران نے ہماری بات نہں مانی لیکن ہم نے ایران کے لیے اپنی پیش کش چھوڑ دی ہے۔ ایران نے کیا کہا ؟ ایران نے کہا کہ ہم نے اپنی بات کہہ دی ہے ، گیند اب امریکی کورٹ میں ہے ۔

مزید غور فرمائیے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا پہلا مطلب یہ ہے کہ بات ختم نہیں ہوئی ، بات جاری ہے ۔ ایک دوسرے کو پیش کش کی جا رہی ہے اور جواب کا انتظار بھی ہے اور جواب کا راستہ بھی کھلا ہے۔

اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے کی بات سنی ہے ، ایک دوسرے کے سامنے اپنی بات رکھی ہے ، معاملہ پیچیدہ ہے ، اب دونوں اپنے اپنے ملک جائیں گے ، قیادت سے مشاورت کی جائے گی ۔ ڈومیسٹک آڈینس کو بھی انگیج کیا جائے گا۔ حتمی فیصلے سے پہلے اپنے اپنے ملک میں مقامی سطح پر لوگوں کو ایک حد تک آن بورڈ لیا جائے گا۔ یہ بالکل فطری بات ہے ، جب مذاکرات کے فریق سالوں سے نہیں بلکہ کئی عشروں سے شدید دشمنی کی کیفیت سے گزر رہے ہوں تو وہ بہت کچھ اس طرح اچانک نہیں کر سکتے ، اس سے ڈومیسٹک آڈینس بلاسٹ ہو جاتا ہے ، یہ کام دھیرے دھیرے کرنا ہوتا ہے ، ڈومیسٹک آڈینس کو ساتھ لے کر ، اسے قائل کر کے ۔

آپ اس بات کو یوں سمجھیے کہ جس طرح جنگ میں بات نہ بن رہی ہو تو فیس سیونگ چاہیے ہوتی ہے ، اسی طرح یہ فیس سیونگ مذاکرات میں بھی بعض اوقات چاہیے ہوتی ہے۔ مذاکرات کے نتیجے میں ڈومیسٹک بلاسٹ سے بچنے کے لیے مذذاکراتی عمل میں تھوڑا تعطل ، تھوڑا التوا ، کچھ اگر اور کچھ مگر بھی ا سی طرح فیس سیونگ کا کام دیتے ہیں ۔

بعض اوقات فریقین سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ پہلی ہی ملاقات میں برف کچھ زیادہ پگھل گئی تو یہ مناسب نہیں ، یہ ان کے فخرا ور غرور کے تصورات سے متصام ہے۔ یوں مذاکرات تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر وہی ہوتا ہے جو سیز فائر کے وقت ہوا ہوتا ہے ۔ بیچ میں کچھ دوست پڑتے ہیں ، وہ درخواست کرتے ہیں ، یوں پھر فریقین اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے موقف کچھ نرم کرتے ہیں اور ان دوستوں کی انا اور قومی فخر کو بچا لیتے ہیں ۔ انہیں فیس سیونگ دیتے ہیں۔

یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ہوا ہے ۔ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کہی گئی ہے ، جس رجیم کو بدلنے کی بات کی جا رہی تھی اسی کے ساتھ بیٹھ کر بات کی ہے ۔ پیش کش اب بھی باقی ہے ، گیند اب بھی دوسرے کی کورٹ میں چھوڑی گئی ہے ، گیند جب دوسرے کی کورٹ میں ہوتی ہے تو وہ گراؤنڈ کے اندر ہی ہوتی ہے ، اس سے باہر نہیں ہوتی۔ یعنی کھیل ابھی ختم نہیں ہوتا۔ کھیل باقی ہے ، امید بڑھ گئی ہے ۔

اس دوران پاکستان نے ایک بڑا کام کر دیا ہے۔ مذاکرات کے دوران ہی اس نے اپنے فوجی دستے سعودیہ میں تعینات کر دیے ہیں ۔ ایران اس محبت اور اخلاص کا قائل ہے جو ہم نے مذاکرات میں دکھائی ، جب پاکستان کے دستے سعودیہ میں ہوں گے تو بات خراب بھی ہو گئی تو سعودیہ پر ایرانی حملہ نہیں ہو گا

یہ حملہ نہیں ہو گا تو عرب اور عجم کی جنگ کی سازش ناکام ہو جائے گی۔ یوں سمجھیے کہ پاکستان نے اس کو ناکام بنایا ہے اور بڑی محنت سے ناکام بنایا ہے۔

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

دیکھئیے:اسلام آباد مذاکرات اختتام پذیر: پاکستان کی ثالثی کو سراہا گیا، جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور: وزارت خارجہ

ْ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *