اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے بعد پاکستان کا امن پر مبنی سفارتی مؤقف نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، جہاں جنگ بندی برقرار ہے اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتکاری ایک مسلسل عمل ہے، کسی ایک نشست میں حتمی معاہدے کی توقع نہیں کی جاتی۔ ماضی میں بھی ایسے پیچیدہ تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات طویل عرصے تک جاری رہے، جبکہ حالیہ پیش رفت کا اہم پہلو یہ ہے کہ تعطل کا شکار عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔
سکیورٹی اور سفارتی حلقوں کے مطابق سب سے بڑا چیلنج جاری جنگ کو روکنا تھا، جس میں پاکستان نے مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔ عالمی سطح پر اس اقدام کو سراہا گیا اور خطے میں کشیدگی کم ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق امریکہ نے اپنی حتمی پیشکش ایران کے سامنے رکھ دی ہے اور اب اگلے مراحل میں اس پر پیش رفت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی تاحال برقرار ہے اور آئندہ دنوں میں بھی اس کے تسلسل کا امکان موجود ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کے باوجود مکالمے کا دروازہ کھلا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی عمل کسی دیرپا حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ سے ہی ممکن ہے، اور اسلام آباد اس عمل میں ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
دیکھئیے:امریکا ایران تنازع: جنگ، سفارتکاری اور اسلام آباد مذاکرات, آغاز سے اب تک کی تفصیلی صورتحال