لندن اسکول آف اکنامکس میں 6 جون کو ہونے والی پاکستان پالیسی کانفرنس کے منتظمین، 40 ملین ڈالر کی پراسرار فنڈنگ اور یکطرفہ پینل کی تشکیل پر سفارتی حلقوں میں شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

May 31, 2026

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں میں مسلم تعلیمی اداروں، جامعہ البنات اور جماعتِ اسلامی کے سابق سربراہ کی رہائش گاہ پر چھاپے مار کر خواتین کو ہراساں کیا۔

May 31, 2026

امریکی مؤرخ اسٹیفن کوٹکن کا ایران۔ پاکستان جوہری دعویٰ من گھڑت اور تضادات کا شکار ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فعال سفارتی اور معتبر مصالحتی کردار نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی عالمی جنگ سے محفوظ رکھا ہے۔

May 31, 2026

افغان طالبان کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف 82 عالمی تنظیموں نے جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین سے سفارتی تعلقات قائم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

May 31, 2026

تیس مئی کے مذاکرات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے امتحان ہیں کہ وہ ہڑتالوں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے نعروں سے پاک عملی نتائج اور عوامی ریلیف کو ترجیح دے۔

May 31, 2026

لندن کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت اور قومی کامیابیوں کے بجائے متنازع امور کو ترجیح دینے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں ملک کا مثبت عالمی تشخص یکسر نظرانداز کیا گیا۔

May 31, 2026

پاکستان کی فعال سفارتکاری: جنگ بندی ممکن بنائی، ایران۔امریکا مذاکرات بحال؛ عالمی سطح پر کردار کو سراہا گیا

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔
پاکستان کا مذاکرات میں کردار

سکیورٹی اور سفارتی حلقوں کے مطابق سب سے بڑا چیلنج جاری جنگ کو روکنا تھا، جس میں پاکستان نے مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔

April 12, 2026

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے بعد پاکستان کا امن پر مبنی سفارتی مؤقف نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، جہاں جنگ بندی برقرار ہے اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتکاری ایک مسلسل عمل ہے، کسی ایک نشست میں حتمی معاہدے کی توقع نہیں کی جاتی۔ ماضی میں بھی ایسے پیچیدہ تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات طویل عرصے تک جاری رہے، جبکہ حالیہ پیش رفت کا اہم پہلو یہ ہے کہ تعطل کا شکار عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

سکیورٹی اور سفارتی حلقوں کے مطابق سب سے بڑا چیلنج جاری جنگ کو روکنا تھا، جس میں پاکستان نے مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔ عالمی سطح پر اس اقدام کو سراہا گیا اور خطے میں کشیدگی کم ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق امریکہ نے اپنی حتمی پیشکش ایران کے سامنے رکھ دی ہے اور اب اگلے مراحل میں اس پر پیش رفت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق جنگ بندی تاحال برقرار ہے اور آئندہ دنوں میں بھی اس کے تسلسل کا امکان موجود ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کے باوجود مکالمے کا دروازہ کھلا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی عمل کسی دیرپا حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ سے ہی ممکن ہے، اور اسلام آباد اس عمل میں ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

دیکھئیے:امریکا ایران تنازع: جنگ، سفارتکاری اور اسلام آباد مذاکرات, آغاز سے اب تک کی تفصیلی صورتحال

متعلقہ مضامین

لندن اسکول آف اکنامکس میں 6 جون کو ہونے والی پاکستان پالیسی کانفرنس کے منتظمین، 40 ملین ڈالر کی پراسرار فنڈنگ اور یکطرفہ پینل کی تشکیل پر سفارتی حلقوں میں شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

May 31, 2026

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں میں مسلم تعلیمی اداروں، جامعہ البنات اور جماعتِ اسلامی کے سابق سربراہ کی رہائش گاہ پر چھاپے مار کر خواتین کو ہراساں کیا۔

May 31, 2026

امریکی مؤرخ اسٹیفن کوٹکن کا ایران۔ پاکستان جوہری دعویٰ من گھڑت اور تضادات کا شکار ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فعال سفارتی اور معتبر مصالحتی کردار نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی عالمی جنگ سے محفوظ رکھا ہے۔

May 31, 2026

افغان طالبان کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف 82 عالمی تنظیموں نے جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین سے سفارتی تعلقات قائم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

May 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *