اسلام آباد میں جاری حالیہ بین الاقوامی مشاورتی عمل اور سفارتی سرگرمیوں کو بعض غیر ملکی حلقوں، بالخصوص امجد طہ جیسے عناصر کی جانب سے غلط رنگ دینے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے سفارتی ذرائع اور مبصرین کا مؤقف ہے کہ پاکستان کسی “خریداری” یا “چناؤ” کے عمل میں مصروف نہیں، بلکہ اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔ اسلام آباد اس وقت مذاکراتی عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک کلیدی سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ غیر مستحکم خطے میں پائیدار استحکام کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔
دعوؤں کی حقیقت
غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر “سرنڈر ٹیبل” جیسی اصطلاحات کا استعمال سنگین غلط فہمی اور زمینی حقائق سے صریح انحراف ہے۔ پاکستان تمام عالمی اور علاقائی فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کو کم کر کے تنازع کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ذمہ دار اور پختہ ریاستی حکمتِ عملی ہے جسے کسی صورت کمزوری سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد کسی کے ہتھیار ڈالنے کا مقام نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں عالمی امن کے لیے مکالمے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
The Islamic regime in Iran is on the menu, not at the surrender table in Islamabad. Pakistan is shopping between Saudi Arabia and Iran to keep its economy from collapsing. India would be a better choice to negotiate the surrender of Iran’s Islamic regime and end terrorism.
— Amjad Taha أمجد طه (@amjadt25) April 14, 2026
بھارتی کردار اور مغالطہ
بعض حلقوں کی جانب سے بھارت کو ایک “بہتر انتخاب” یا غیر جانبدار ثالث قرار دینے کی کوششیں زمینی حقائق سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہیں۔ پاکستان کا مستقل اور اصولی مؤقف ہمیشہ سے مکالمے اور کشیدگی میں کمی پر زور دینا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج متضاد مفادات رکھنے والے فریقین بھی اسلام آباد میں بیٹھ کر بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں۔ پاکستان ایسے کسی بھی بیانیے کو مسترد کرتا ہے جو خطے میں مزید عدم استحکام اور انتشار کا سبب بن سکے۔
کشیدگی میں کمی کا مرکز
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مقصد فریقین کے مابین غلط فہمیوں کو دور کرنا اور سفارتی ذرائع سے پائیدار حل نکالنا ہے۔ بعض مخصوص حلقوں کی جانب سے اس قسم کے پروپیگنڈے کا مقصد دراصل پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثر و رسوخ کو نشانہ بنانا ہے۔ تاہم، امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کا سب سے معتبر داعی بن کر ابھرا ہے۔