اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں بریفنگ کے دوران پاکستان کے تاریخی کردار کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوج فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی امن دستے دنیا بھر کے 48 مختلف مشنز میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے چکے ہیں، جس کی کامیابی کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جاتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے انکشاف کیا کہ عالمی امن کے قیام کی خاطر اب تک 182 پاکستانی اہلکاروں نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اہلکاروں کی حفاظت اور سیکیورٹی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ سفیر نے حال ہی میں امن دستوں پر ہونے والے حملوں، بالخصوص انڈونیشیائی اور بنگلہ دیشی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم کے خلاف احتساب ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے۔
سکیورٹی چیلنجز
سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ امن دستے اس وقت انتہائی پیچیدہ اور مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں جہاں وسائل میں کمی اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ڈرونز اور دیگر غیر روایتی جنگی ہتھکنڈوں سے پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی کی۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے لیکن یہ زمین پر موجود انسانی موجودگی کا متبادل نہیں ہو سکتی، کیونکہ مقامی برادریوں کے ساتھ روابط اور اعتماد سازی کے لیے انسانی عنصر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اپاکستان ڈنمارک تعاون
سفیر عاصم افتخآر نے وسطی افریقی جمہوریہ اور ابیئی کے مشنز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امن مشنز عالمی استحکام کے لیے ایک کم لاگت اور موثر ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ڈنمارک “پیس کیپنگ ڈو” کے طور پر مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ سلامتی کونسل کی توجہ امن مشنز کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانے پر مرکوز رکھی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔