بدخشاں: افغانستان کے بدخشاں صوبے کے یاوان ضلع میں طالبان کے دو دھڑوں کے درمیان شدید مسلح جھڑپ ہوئی ہے۔ اس جھڑپ میں کم از کم دو طالبان ارکان ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور زخمی بھی ہوا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ جھڑپ رحمت اللہ امارتی اور حاجی صفا سے منسلک افراد کے درمیان ہوئی۔ دونوں فریقوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری اندرونی اختلافات ہی اس خونریز تصادم کی وجہ بنے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد سلیم اور محمد عوض کے نام سے ہوئی
طالبان انتظامیہ نے اب تک اس جھڑپ کی وجہ یا تفصیلات پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ نہ ہی صوبائی یا مرکزی سطح پر اس واقعے کی تردید یا تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم مقامی آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ یہ اندرونی اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے مختلف صوبوں میں ان کے اندرونی دھڑوں کے درمیان ایسی جھڑپیں سامنے آتی رہی ہیں۔ بدخشاں صوبہ، جو پہلے بھی مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، اب طالبان کے اندرونی خاندانی اور علاقائی تنازعات کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں دھڑوں کے درمیان نہ صرف وسائل کی تقسیم بلکہ مقامی انتظامی عہدوں پر قبضے اور اثر و رسوخ کے تنازعات بھی موجود ہیں، جو وقتاً فوقتاً مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس واقعے نے بدخشاں کے امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ علاقائی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر طالبان قیادت نے ان اندرونی اختلافات پر فوری اور مؤثر کنٹرول نہ کیا تو یہ جھڑپیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں اور صوبائی سطح پر استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ابھی تک طالبان حکام کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، البتہ مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور وہ امن کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔