طالبان کی انٹیلی جنس جی ڈی آئی نے بدخشاں کے ضلع جرم میں اپنے بعض اہم کمانڈروں سمیت 13 افراد کو داعش خراسان سے تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں چین میں طالبان کے ثقافتی اتاشی کا بھائی معزالدین بھی شامل ہے۔ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان کی انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) نے ایک بڑی کاروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر 13 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گرفتاریاں ضلع جرم کے علاقے میں عمل میں آئیں، جہاں طالبان کے مقامی فوجی اور انتظامی ڈھانچے سے وابستہ اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ گرفتار شدگان میں مختلف عہدوں پر فائز افراد شامل بتائے جا رہے ہیں، جن میں ایک کندک مخابرہ کا تولی کمانڈر، فرقہ کا آمرِ نشریات، چند افسران اور مقامی ریڈیو ٹیلی ویژن کے سابق ذمہ داران شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ افراد دو دن پہلے گرفتار کیے گئے اور فوری طور پر انہیں کابل منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ کابل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صرف ایک شخص کو ضمانت پر رہا کیا گیا، جو فرقہ بدخشاں کے نائب واصل نظری کے ذریعے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جبکہ باقی 12 افراد اب بھی جی ڈی آئی کی حراست میں ہیں۔
ذرائع آگاہ بتاتے ہیں کہ گرفتار شدگان میں سے چھ افراد بدخشاں کے ضلع جرم کی وُلسوالی کیپ گاؤں کے رہائشی ہیں۔ ان افراد کا تعلق سلفی مکتبِ فکر سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں بدخشاں کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں فائرنگ کی مشقیں اور پہاڑی چڑھائی کی تربیت کیا کرتے تھے۔ ایک پرانے کیس کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے جس میں گرفتار شدگان کے قریبی ایک شخص کو پہلے داعش خراسان سے روابط کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا تھا۔ نئی گرفتاریاں اسی شخص کی نشاندہی پر مبنی بتائی جا رہی ہیں۔
ان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد شہرِ جدید فیض آباد میں طالبان کی استخبارات کے نائب اور ایک اور اہلکار پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔ تاہم، یہ الزامات ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ گرفتاری کی یہ کارروائی طالبان کی اندرونی سیکیورٹی آپریشنز کا حصہ لگتی ہے، جس میں وہ داعش خراسان سے ممکنہ روابط رکھنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ خاص طور پر چین میں طالبان کے ثقافتی اتاشی کے بھائی معزالدین کی گرفتاری نے اس کیس کو بین الاقوامی اہمیت دے دی ہے، کیونکہ چین طالبان کے اہم اتحادیوں میں سے ایک ہے اور داعش خراسان چین مخالف کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔
بدخشاں صوبہ طالبان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں مختلف نسلی گروہوں (تاجک، ازبک، پختون وغیرہ) کے درمیان تناؤ رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس علاقے میں سونے کی کانوں، معدنیات اور دیگر وسائل پر کنٹرول کے لیے اندرونی جھگڑے بھی سامنے آئے ہیں۔ طالبان کی قیادت مرکزی طور پر قندھاری گروہ پر انحصار کرتی ہے، جبکہ مقامی ازبک اور تاجک عناصر اکثر شکایات کرتے رہتے ہیں کہ انہیں وسائل سے محروم رکھا جاتا ہے۔ گرفتار شدگان میں سے کئی افراد ازبک نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
طالبان کی انٹیلی جنس کی یہ کارروائی نہ صرف داعش خراسان کے خلاف بلکہ اندرونی مخالف آوازوں کو کچلنے کی کوشش بھی لگتی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد طالبان کے اندرونی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے، لیکن حالیہ مہینوں میں ان کے کچھ فیصلوں پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ خاص طور پر ضلع جرم میں سونے کی کانوں پر قندھاری گروہ کی اجارہ داری اور دیگر نسلی گروہوں کی تبلیغی سرگرمیوں پر پابندیوں کے خلاف ان کی مخالفت کو گرفتاری کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک ہفتہ قبل ضلع جرم میں طالبان کے ایک مقامی لیڈر سے ان افراد کے گروہ کے درمیان مسلح جھڑپ بھی ہوئی تھی، جس میں کئی زخمی ہوئے۔ اس جھڑپ کے بعد طالبان کی اعلیٰ قیادت نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا۔ گرفتاری کے بعد حراست میں لیے گئے افراد سے ہیبت اللہ اخندزادہ کی اطاعت کا حلف نامہ لینے اور فقہ حنفی کو اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ طالبان کی قیادت سلفی رجحانات والے عناصر کو سخت کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ اندرونی تقسیم نہ پھیلے۔
یہ واقعہ طالبان کی حکومت میں بڑھتے ہوئے اندرونی تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف وہ داعش خراسان جیسے بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو دوسری طرف ان کے اپنے گروہوں کے درمیان نسلی، علاقائی اور فقہی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ بدخشاں جیسے حساس علاقے میں یہ گرفتاریاں نہ صرف مقامی استحکام کو متاثر کریں گی بلکہ طالبان کی مرکزی قیادت کی مقامی کمانڈروں پر گرفت کو بھی کمزور کر سکتی ہیں۔
چین میں طالبان کے ثقافتی اتاشی کے بھائی کی گرفتاری خاص طور پر اہم ہے۔ چین طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک میں پیش پیش ہے اور بدخشاں میں چینی سرمایہ کاری کے منصوبے بھی زیرِ بحث ہیں۔ اگر یہ گرفتاری داعش خراسان سے حقیقی روابط کی وجہ سے ہوئی تو یہ چین کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم، اگر یہ اندرونی سیاسی تصفیہ ہے تو طالبان کی اندرونی کمزوریاں مزید نمایاں ہو جائیں گی۔
مقامی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کی حقیقی وجوہات ابھی واضح نہیں۔ کئی ذرائع الزام لگا رہے ہیں کہ طالبان داعش کا بہانہ بنا کر مخالف آوازوں کو خاموش کر رہے ہیں۔ حراست میں تشدد کی رپورٹس بھی سنگین ہیں، جن کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
طالبان حکومت نے اب تک اس کیس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ اگر گرفتاریاں جاری رہیں تو بدخشاں میں مزید بے چینی پھیل سکتی ہے۔ یہ صورتحال طالبان کی اتحاد کو چیلنج کر رہی ہے، خاص طور پر جب وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایس 2 اور ایس 3 دونوں سے تصدیق کی ہے کہ ان لوگوں کی گرفتاری کی وجہ داعش سے تعلق نہیں ہے، کیونکہ ان میں سے صرف ایک فقیۃ الدین کا تعلق داعش کے اس گروپ سے ہے جو جی ڈی آئی کے انڈر کام کرتا ہے، اسے رہا بھی کر دیا گیا ہے۔ دیگر لوگ طالبان سے تعلق رکھتے ہیں اور ازبک ہیں، ان کی گرفتاری کی وجہ یہ ہے کہ یہ گروپ ضلع جرم میں قندھاری گروہ کی اجارہ داری سے سونے کی کانوں پر قبضوں اور دیگر نسلی گروہوں کی تبلیغ پر پابندیوں کی مخالفت کر رہا ہے۔ ایک ہفتہ قبل ان کی طالبان کے ایک لیڈر سے لڑائی بھی ہوئی تھی۔ گرفتاری کے بعد ان سے ہیبت اللہ کی اطاعت کا حلف نامہ پر کرنے اور فقہ حنفی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔