کوئٹہ: بلوچستان سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ قومی کراٹے کھلاڑی آرزو ٹریفک حادثے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں، جس پر ملک بھر کی اسپورٹس کمیونٹی اور عوامی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق غلام علی ہزارہ اسپورٹس کمپلیکس کوئٹہ سے وابستہ آرزو اپنی ایک ساتھی کھلاڑی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر مقامی کراٹے چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں کہ اچانک موٹر سائیکل پھسلنے کے باعث حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں آرزو کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
آرزو نے قومی سطح کے مقابلوں میں متعدد بار بلوچستان کی نمائندگی کی اور اپنی بہترین کارکردگی سے صوبے کا نام روشن کیا۔ اسپورٹس حلقوں کے مطابق وہ ایک باصلاحیت اور محنتی کھلاڑی تھیں جن کا مستقبل انتہائی تابناک دکھائی دیتا تھا۔ ان کی ناگہانی موت کو بلوچستان میں خواتین کے کھیلوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
چیئرمین پاکستان کراٹے فیڈریشن محمد جہانگیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے نوجوان کھلاڑی کی وفات پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیانات میں انہوں نے سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرزو کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور پوری فیڈریشن اس مشکل گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔
کھیلوں کے مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق آرزو جیسی باصلاحیت کھلاڑیوں کا اس طرح جدا ہونا ملک میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خواتین ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کے لیے آرزو ایک مثال تھیں اور ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔