صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران تہران کے ساتھ بات چیت کا امکان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت پاکستانی قیادت کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔

April 22, 2026

واجبات کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔ سالانہ واجبات جمع نہ کرانے کے باعث افغانستان مسلسل چوتھے سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہا ہے۔

April 22, 2026

حملے کے دوران افغانستان کے سابقہ قومی پرچم کی نمائش اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ یہ گروپ موجودہ طالبان انتظامیہ کی پالیسیوں اور بھارت کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے روابط سے شدید نالاں ہے۔

April 22, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اصل مسئلہ نہیں تھی، کیونکہ امریکا مذاکرات کے دوران اعتماد سازی کے لیے اسے عارضی طور پر ختم کرنے پر راضی تھا۔ اصل رکاوٹ تہران میں فیصلہ سازی کا سست عمل اور سپریم لیڈر تک پیغامات کی رسائی ہے

April 22, 2026

عطا اللہ تارڑ نے بھارتی ریاستی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے پاس جعفر ایکسپریس اور خضدار واقعے سمیت دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

April 22, 2026

رمشا خان کا کہنا تھا کہ وہ عائزہ خان اور حرا مانی جیسی اداکاراؤں کی ہمت کی معترف ہیں جو گھر اور کیریئر کو ایک ساتھ لے کر چلتی ہیں، تاہم ان کے بقول وہ خود ایسا نہیں کر پائیں گی۔

April 22, 2026

بھارتی ٹی وی نیٹ ورک ‘ون انڈیا’ ہیک، افغان طالبان اور مودی حکومت کے تعلقات کے خلاف سائبر حملہ

حملے کے دوران افغانستان کے سابقہ قومی پرچم کی نمائش اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ یہ گروپ موجودہ طالبان انتظامیہ کی پالیسیوں اور بھارت کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے روابط سے شدید نالاں ہے۔
انڈیا چینل ہیک

ون انڈیا کی اسکرینز اور ویب پیجز پر ہیکرز نے واضح پیغام درج کیا کہ وہ افغانستان اور بھارت کے موجودہ گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔

April 22, 2026

نئی دہلی: بھارت کے بڑے ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک ‘ون انڈیا’ کو ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی ذمہ داری خود کو ‘ٹرو مسلم افغانز کہلانے والے ایک گروپ نے قبول کر لی ہے۔ 30 ملین سے زائد فالوورز رکھنے والے اس نیٹ ورک کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہیکرز نے افغانستان کا اصل (سہ رنگی) جھنڈا لہرا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 21 اپریل کو ہونے والے اس حملے کے دوران ہیکرز نے افغان طالبان کی قیادت، بالخصوص ہیبت اللہ اخوندزادہ کو ایک سخت پیغام بھیجا ہے۔ ہیکرز نے طالبان اور مودی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ‘غیر قانونی’ قرار دیا ہے۔ ہیکرز کا موقف ہے کہ طالبان کی جانب سے بھارت کے ساتھ قربت افغان عوام کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتی۔

ون انڈیا کی اسکرینز اور ویب پیجز پر ہیکرز نے واضح پیغام درج کیا کہ وہ افغانستان اور بھارت کے موجودہ گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔ حملے کے دوران افغانستان کے سابقہ قومی پرچم کی نمائش اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ یہ گروپ موجودہ طالبان انتظامیہ کی پالیسیوں اور بھارت کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے روابط سے شدید نالاں ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ حملہ انتہائی منظم تھا جس نے نیٹ ورک کے بڑے ڈیٹا بیس اور نشریاتی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ بھارتی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیکرز کا تعلق کس مخصوص جغرافیائی خطے سے ہے، حالانکہ ان کا نام افغان نژاد ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، بھارت اور طالبان کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والے مذاکرات اور بھارتی وفود کے دورہ کابل نے کئی انتہا پسند اور قوم پرست گروہوں کو مشتعل کیا ہے، اور ‘ون انڈیا’ پر ہونے والا یہ حملہ اسی غصے کا اظہار معلوم ہوتا ہے۔

دیکھئیے:پہلگام کو ایک سال مکمل ہو گیا مگر بھارت آج بھی کوئی شواہد پیش نہیں کر سکا: عطا تارڑ

متعلقہ مضامین

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران تہران کے ساتھ بات چیت کا امکان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت پاکستانی قیادت کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔

April 22, 2026

واجبات کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔ سالانہ واجبات جمع نہ کرانے کے باعث افغانستان مسلسل چوتھے سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہا ہے۔

April 22, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اصل مسئلہ نہیں تھی، کیونکہ امریکا مذاکرات کے دوران اعتماد سازی کے لیے اسے عارضی طور پر ختم کرنے پر راضی تھا۔ اصل رکاوٹ تہران میں فیصلہ سازی کا سست عمل اور سپریم لیڈر تک پیغامات کی رسائی ہے

April 22, 2026

عطا اللہ تارڑ نے بھارتی ریاستی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے پاس جعفر ایکسپریس اور خضدار واقعے سمیت دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

April 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *