وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر پہلے ہی دن یہ عہد کیا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی ملازمت فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ اس عہد کی پاسداری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی 99.99 فیصد بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہیں۔

April 22, 2026

اس کوریڈور کے فعال ہونے سے اب پانچ وسطی ایشیائی ریاستوں اور ماسکو تک پاکستانی مصنوعات کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ اور متبادل راستہ دستیاب ہو گیا ہے۔

April 22, 2026

منتخب ہونے والے خلابازوں، خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کو جدید تربیت کے لیے چین روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ مشن 2026 کے آخر میں متوقع ہے، جس میں ایک پاکستانی خلاباز ‘شین زو’ مشن کے دوران ‘پے لوڈ ایکسپرٹ’ کی حیثیت سے چائنا اسپیس اسٹیشن پر ذمہ داریاں نبھائے گا۔

April 22, 2026

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران تہران کے ساتھ بات چیت کا امکان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت پاکستانی قیادت کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔

April 22, 2026

واجبات کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔ سالانہ واجبات جمع نہ کرانے کے باعث افغانستان مسلسل چوتھے سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہا ہے۔

April 22, 2026

حملے کے دوران افغانستان کے سابقہ قومی پرچم کی نمائش اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ یہ گروپ موجودہ طالبان انتظامیہ کی پالیسیوں اور بھارت کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے روابط سے شدید نالاں ہے۔

April 22, 2026

خلائی تحقیق میں پاکستان کی بڑی اڑان، 2 پاکستانی خلاباز چینی مشن کے لیے منتخب

منتخب ہونے والے خلابازوں، خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کو جدید تربیت کے لیے چین روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ مشن 2026 کے آخر میں متوقع ہے، جس میں ایک پاکستانی خلاباز ‘شین زو’ مشن کے دوران ‘پے لوڈ ایکسپرٹ’ کی حیثیت سے چائنا اسپیس اسٹیشن پر ذمہ داریاں نبھائے گا۔
سپارکو خلائی مشن کے لئے دو پاکستانی منتخب

سپارکو کے مطابق، پاکستان اب دنیا کے ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو انسانی خلائی پروازوں کے پروگرام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

April 22, 2026

اسلام آباد: پاکستان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی ‘سپارکو’ نے انسانی خلائی مشن کے حوالے سے تاریخی پیشرفت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت دو پاکستانی خلابازوں کو چین کے خلائی پروگرام کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

سپارکو کے مطابق، پاکستان اب دنیا کے ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو انسانی خلائی پروازوں کے پروگرام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ منتخب ہونے والے خلابازوں، خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کو جدید تربیت کے لیے چین روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ مشن 2026 کے آخر میں متوقع ہے، جس میں ایک پاکستانی خلاباز ‘شین زو’ مشن کے دوران ‘پے لوڈ ایکسپرٹ’ کی حیثیت سے چائنا اسپیس اسٹیشن پر ذمہ داریاں نبھائے گا۔

اس مشن کے دوران پاکستانی خلاباز مائیکرو گریویٹی (کشش ثقل کی کمی) میں متعدد سائنسی تجربات انجام دیں گے۔ ان تجربات کا دائرہ کار مٹیریل سائنس، فلوئڈ فزکس، لائف سائنسز اور بائیو ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں پر مشتمل ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تحقیقات ماحولیاتی تبدیلیوں، غذائی تحفظ اور صنعتی جدت کے شعبوں میں پاکستان کے لیے دور رس نتائج کی حامل ہوں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سپارکو کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے پاک چین لازوال دوستی کا ایک اور مظہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی خلائی مشن کے لیے پاکستان کا انتخاب دونوں ممالک کے درمیان گہرے تزویراتی اور سائنسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

سائنسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ مشن پاکستان کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے تعاون سے پاکستانی خلابازوں کی خلا میں روانگی نہ صرف قومی وقار میں اضافہ کرے گی بلکہ اس سے ملک میں سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کو بھی نئی تحریک ملے گی۔

دیکھئیے:بھارتی ٹی وی نیٹ ورک ‘ون انڈیا’ ہیک، افغان طالبان اور مودی حکومت کے تعلقات کے خلاف سائبر حملہ

متعلقہ مضامین

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر پہلے ہی دن یہ عہد کیا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی ملازمت فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ اس عہد کی پاسداری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی 99.99 فیصد بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہیں۔

April 22, 2026

اس کوریڈور کے فعال ہونے سے اب پانچ وسطی ایشیائی ریاستوں اور ماسکو تک پاکستانی مصنوعات کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ اور متبادل راستہ دستیاب ہو گیا ہے۔

April 22, 2026

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران تہران کے ساتھ بات چیت کا امکان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت پاکستانی قیادت کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔

April 22, 2026

واجبات کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔ سالانہ واجبات جمع نہ کرانے کے باعث افغانستان مسلسل چوتھے سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہا ہے۔

April 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *