اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، لیکن بھارت آج تک اپنے موقف کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ واقعے کے محض 10 منٹ کے اندر ایف آئی آر کا اندراج اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا متن پہلے سے تیار تھا اور یہ ایک خود ساختہ آپریشن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے محض پروپیگنڈا ٹول کے طور پر جنگی جنون پیدا کیا، لیکن عالمی میڈیا اور خود بھارتی سول سوسائٹی نے اس ڈرامے پر سنجیدہ سوالات اٹھا کر مودی سرکار کو بے نقاب کر دیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے بھارتی ریاستی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے پاس جعفر ایکسپریس اور خضدار واقعے سمیت دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ‘فتنہ الہندوستان’ بی ایل اے اور ‘فتنہ الخوارج’ (ٹی ٹی پی) کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھی بھارتی ریاست کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جسے بھارت اندرونی معاملہ قرار دے کر دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے اور پوری قوم ملک سے اس ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہے۔