اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم، جب ان سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں 3 سے 5 دن کی توسیع کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ تہران اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔

April 23, 2026

ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مسئلہ برسوں پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور اب اس کی حیثیت “ٹوٹے ہوئے پیالے” جیسی ہے جس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں۔ پیغام میں کہا گیا کہ پشتون رہنما ایک ایسے خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہے ہیں جس کا کوئی وجود نہیں

April 22, 2026

افغانستان ریپبلک فرنٹ نے حقیقت پسندی اور قومی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے تمام سیاسی رہنماؤں، اشرافیہ اور بااثر شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے حساس معاملات پر نسلی، علاقائی اور جذباتی طرزِ عمل سے گریز کریں۔

April 22, 2026

اعلامیے میں ان گروہوں کی کڑی مذمت کی گئی جنہوں نے استاد محقق کے بیان پر جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ ردعمل دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تاریخی حقائق کے اظہار کو پروپیگنڈے، عوامی اشتعال انگیزی اور عارضی جذبات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔

April 22, 2026

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر پہلے ہی دن یہ عہد کیا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی ملازمت فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ اس عہد کی پاسداری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی 99.99 فیصد بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہیں۔

April 22, 2026

اس کوریڈور کے فعال ہونے سے اب پانچ وسطی ایشیائی ریاستوں اور ماسکو تک پاکستانی مصنوعات کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ اور متبادل راستہ دستیاب ہو گیا ہے۔

April 22, 2026

ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر کا ڈیورنڈ لائن کو پاک افغان مستقل سرحد تسلیم کرنے کا اعلان

اعلامیے میں ان گروہوں کی کڑی مذمت کی گئی جنہوں نے استاد محقق کے بیان پر جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ ردعمل دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تاریخی حقائق کے اظہار کو پروپیگنڈے، عوامی اشتعال انگیزی اور عارضی جذبات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔
ڈیورنڈ لائن مسلمہ بارڈر ہے

ڈیورنڈ لائن پر دستخط افغانستان کے سابق حکمرانوں کے دور میں ہوئے تھے، اور یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر قائم ہو چکی ہے۔

April 22, 2026

کابل: ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر نے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ایک اہم پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے اسے افغانستان اور پاکستان کے درمیان باضابطہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد قرار دے دیا ہے۔

مرکز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معتبر تاریخی دستاویزات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں ڈیورنڈ لائن پر دستخط افغانستان کے سابق حکمرانوں کے دور میں ہوئے تھے، اور یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر قائم ہو چکی ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس زمینی حقیقت کو نظر انداز کرنا نہ صرف قومی مفادات کے منافی ہے بلکہ اس سے مزید بحران پیدا ہوں گے اور عوامی جذبات کے استحصال کی راہ ہموار ہوگی۔

ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر نے سینئر افغان رہنما محمد محقق (استاد محقق) کے حالیہ بیان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس حساس معاملے پر ان کا موقف جرات مندانہ اور سچائی پر مبنی ہے۔ اعلامیے میں ان گروہوں کی کڑی مذمت کی گئی جنہوں نے استاد محقق کے بیان پر جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ ردعمل دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تاریخی حقائق کے اظہار کو پروپیگنڈے، عوامی اشتعال انگیزی اور عارضی جذبات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تاریخی حقائق کو چھپانے اور غیر حقیقی نعروں پر تکیہ کرنے سے افغانستان میں عدم استحکام کو ہوا ملی ہے اور افغان عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ مرکز نے ملک کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے “امتیازی اور جابرانہ پالیسیوں” پر بھی کڑی تنقید کی۔

اپنے بیان کے اختتام پر ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر نے دانشوروں اور اشرافیہ پر زور دیا کہ وہ تعصبات سے بالاتر ہو کر عقل و دانش پر مبنی نقطہ نظر اپنائیں اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

دیکھئیے:ڈیورنڈ لائن؛ جذباتیت سے حقیقت پسندی تک کا سفر

متعلقہ مضامین

اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم، جب ان سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں 3 سے 5 دن کی توسیع کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ تہران اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔

April 23, 2026

ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مسئلہ برسوں پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور اب اس کی حیثیت “ٹوٹے ہوئے پیالے” جیسی ہے جس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں۔ پیغام میں کہا گیا کہ پشتون رہنما ایک ایسے خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہے ہیں جس کا کوئی وجود نہیں

April 22, 2026

افغانستان ریپبلک فرنٹ نے حقیقت پسندی اور قومی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے تمام سیاسی رہنماؤں، اشرافیہ اور بااثر شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے حساس معاملات پر نسلی، علاقائی اور جذباتی طرزِ عمل سے گریز کریں۔

April 22, 2026

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر پہلے ہی دن یہ عہد کیا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی ملازمت فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ اس عہد کی پاسداری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی 99.99 فیصد بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہیں۔

April 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *