کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہر سطح پر میرٹ کی ترویج سے ریاست اور نوجوانوں کے درمیان دوریوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، ماضی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے کوالیفائیڈ اساتذہ کو واپس بھیجنے کے ایک فیصلے نے بلوچستان کو تعلیم کے میدان میں کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں محکمہ تعلیم بلوچستان کے زیرِ اہتمام اسکول داخلہ مہم کے اہداف کی کامیابی سے تکمیل پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان کو دوسروں نے نہیں بلکہ خود یہاں کے لوگوں نے محروم رکھا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت ترقی کے ثمرات عام آدمی، خاص طور پر غریب اور محنت کش طبقے تک پہنچانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر پہلے ہی دن یہ عہد کیا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی ملازمت فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ اس عہد کی پاسداری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی 99.99 فیصد بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن اور دیگر محکموں میں شفافیت اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی انسانی مداخلت یا بدعنوانی کا راستہ روکا جا سکے۔
دیکھئیے:بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس شہید؛ لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے جرات کی نئی تاریخ رقم کر دی