کراچی: پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روٹرز نظام کے تحت ٹرانزٹ ٹریڈ کوریڈور کا عملی آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے فروزن گوشت کی پہلی کھیپ ایران کے راستے ازبکستان روانہ کر دی گئی ہے۔
پاک افغان کوریڈور کی بندش کے باوجود پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے یہ نیا زمینی راستہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ اس کوریڈور کے فعال ہونے سے اب پانچ وسطی ایشیائی ریاستوں اور ماسکو تک پاکستانی مصنوعات کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ اور متبادل راستہ دستیاب ہو گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس راستے سے پھل، سبزیاں، فروزن گوشت، چاول، ادویات، سرجیکل آلات اور دیگر فوڈ آئٹمز وسطی ایشیا بھیجے جا رہے ہیں۔
تاجر برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک ایران کوریڈور کو ایک کامیاب اور مستقل متبادل بنانے کے لیے ابتدائی طور پر ‘فریٹ سبسڈی’ فراہم کی جائے۔ اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ ٹی آئی آر کے ساتھ ساتھ ‘باؤنڈڈ کیریئر ٹرانسپورٹ’ کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جائے تاکہ مال برداری کے عمل کو مزید وسعت دی جا سکے۔
معاشی ماہرین اور تاجروں نے تجویز دی ہے کہ ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ (تبادلہ مال) کے ساتھ ساتھ باقاعدہ دو طرفہ تجارت کا معاہدہ بھی کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق، یہ نیا ٹرانزٹ کوریڈور نہ صرف پاکستان کی برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ علاقائی روابط کی مضبوطی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
دیکھئیے:تاجکستان میں سرحدی کارروائی: افغانستان سے داخل ہونے والے 2 منشیات اسمگلر ہلاک