کابل: افغانستان ریپبلک فرنٹ نے ملک کے سرحدی مسائل کے حوالے سے ایک جامع بیان جاری کرتے ہوئے ڈیورنڈ لائن کو افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا ہے۔
فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرحدیں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے فریم ورک کے تحت واضح طور پر متعین ہیں۔ یہ سرحدیں مختلف تاریخی ادوار میں طے کی گئیں جنہیں اس وقت کی حکومتوں اور متعلقہ فریقین نے باقاعدہ تسلیم کیا، لہٰذا ڈیورنڈ لائن ایک قانونی اور سیاسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔
افغانستان ریپبلک فرنٹ نے حقیقت پسندی اور قومی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے تمام سیاسی رہنماؤں، اشرافیہ اور بااثر شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے حساس معاملات پر نسلی، علاقائی اور جذباتی طرزِ عمل سے گریز کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بے بنیاد اور اشتعال انگیز دعوے نہ صرف مسائل حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ اس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچتا ہے اور بحران مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔
اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس وقت اولین ترجیح افغانستان کو موجودہ بحران سے نکالنا اور عوام کو طالبان کی حکمرانی سے نجات دلانا ہے، جنہوں نے ملک کو تنہائی، غربت اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ فرنٹ نے تمام سیاسی، شہری اور قومی قوتوں کو متحرک ہونے کی دعوت دی ہے تاکہ ملک میں آزادی، انصاف اور قانون کی حکمرانی کی بحالی کے لیے مربوط جدوجہد کی جا سکے۔
افغانستان ریپبلک فرنٹ نے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسانی وقار اور افغان عوام کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جائز اور قومی جدوجہد جاری رکھے گا اور اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
دیکھئیے:ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر کا ڈیورنڈ لائن کو پاک افغان مستقل سرحد تسلیم کرنے کا اعلان