کابل: افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں پشتون قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خود غرض رہنماؤں نے پشتون قوم کو ترقی اور وقار دینے کے بجائے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک سخت ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پشتون قوم کے نام نہاد رہنماؤں کو دیگر اقوام کے رہنماؤں کے بیانات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کا واحد مقصد پاکستان سے اپنے مفادات حاصل کرنا ہے۔ تنقید میں مزید کہا گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کل دوبارہ اقتدار کی خاطر معاون اور مشیر بن کر سامنے آ جائیں گے۔
بیان میں پشتون قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر انہیں واقعی اپنی قوم کا احترام ہوتا تو وہ اپنے برسوں کے اقتدار کے دوران اس جغرافیے میں بسنے والے لوگوں کو ذلت اور رسوائی سے بچا لیتے۔ اس موقع پر ماضی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب حاجی دین محمد اور کرزی کے معین، اشرف غنی کی معاونت کے لیے حمایت مانگنے آئے تھے، تو انہیں اس وقت خبردار کر دیا گیا تھا کہ یہ راستہ قوم کی رسوائی پر ختم ہوگا۔
ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مسئلہ برسوں پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور اب اس کی حیثیت “ٹوٹے ہوئے پیالے” جیسی ہے جس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں۔ پیغام میں کہا گیا کہ پشتون رہنما ایک ایسے خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہے ہیں جس کا کوئی وجود نہیں، جبکہ حقیقت میں وہ پوری قوم کی ذلت کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
یہ تیکھا ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کے بیانات میں تیزی آئی ہے، جس نے روایتی سیاست دانوں کے بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔