یونیورسٹی آف لاہور کے سینٹر فار سکیورٹی، اسٹریٹجی اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس ایس پی آر) نے ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘المرصاد’ نامی پلیٹ فارم دراصل افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے کا تیار کردہ ایک مکارانہ پروپیگنڈا ہتھیار ہے جو صحافت کی آڑ میں پاکستان کے خلاف منظم مہم چلا رہا ہے۔
ڈیجیٹل دہشت گردی
رپورٹ بعنوان ‘ان پیکنگ المرصاد: نیریٹوز، پراپیگنڈا اینڈ دی ڈس انفارمیشن وار اگینسٹ پاکستان’ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک سوچی سمجھی اور کثیر جہتی معلوماتی جنگ کا سامنا ہے۔ المرصاد محض ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک معاندانہ نظام کا ارتقاء ہے، جسے ڈیجیٹل مہارت، مصنوعی ذہانت اور مربوط ڈس انفارمیشن کے ذریعے ہتھیار بنایا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کے ریاستی تشخص کو مسخ کرنا اور عالمی سطح پر اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔
سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش
رپورٹ کے مطابق، المرصاد کو خاص طور پر پاکستان کی قیامِ امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کے ثالثی کردار کو اس مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو ایک ‘ایران مخالف’ ریاست کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ یہ پروپیگنڈا مہم ایک ایسے وقت میں تیز کی گئی ہے جب پاکستان کی سہولت کاری سے فریقین کے درمیان اہم بریک تھرو سامنے آ رہے ہیں۔
بھارت اور افغان مذموم گٹھ جوڑ
تحقیقات میں ایک ہولناک انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف اس انفارمیشن وار میں بھارت اور افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا گٹھ جوڑ کام کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارتی اور افغان آپریٹرز جعلی ایرانی ہینڈلز کے ذریعے پاک ایران تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال 2020 کی ‘انڈین کرونیکلز’ رپورٹ کی یاد دلاتی ہے، جس میں پاکستان کے خلاف بھارت کی 15 سالہ طویل ڈس انفارمیشن مہم بے نقاب ہوئی تھی۔
مذہب کا بطور ہتھیار استعمال
سی ایس ایس پی آر کی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ المرصاد مذہب کی آڑ میں دہشت گردی اور تشدد کو جائز قرار دے رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم مذہبی اصطلاحات کا غلط استعمال کر کے ٹی ٹی پی کے حملوں کو مذہبی فریضہ قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو ‘غیر ملکی سازش’ بتا کر عوام کو بغاوت پر اکساتا ہے۔ المرصاد جان بوجھ کر ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش رہتا ہے، جو اس کے دوغلے پن کا ثبوت ہے۔
نتائج اور خطرات رپورٹ کے مطابق، المرصاد انگریزی، اردو، پشتو، اور ہندی سمیت متعدد زبانوں میں مواد تیار کر رہا ہے تاکہ سرحد پار سے بھی پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔ اس مہم کا حتمی مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا، نسلی تقسیم کو ہوا دینا اور اسے عالمی سطح پر تنہا کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ المرصاد صحافت نہیں بلکہ ایک منظم جنگی ہتھیار ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی سطح پر آگاہی اور جوابی بیانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔